صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 389 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 389

صحيح البخاری جلد | ۳۸۹ بَاب ٤ : مَنْ سَمَّى النِّفَاسَ حَيْضًا جس نے حیض کا نام نفاس رکھا ٦ - كتاب الحيض ۲۹۸ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ :۲۹۸ ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہشام قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے بیٹی بن ابی کثیر سے، بیٹی كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمّ نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ حضرت ام سلمہ کی لڑکی سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا قَالَتْ زینب نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ نے بَيْنَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہیں بتایا۔کہتی تھیں : ایک بار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مُضْطَجِعَةٌ فِي حَمِيْصَةٍ إِذْ حِضْتُ کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ اتنے میں فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيْضَنِي مجھے حیض آیا تو میں سرک گئی اور اپنے حیض کے قَالَ أَنفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَانِي کپڑے لئے۔آپ نے فرمایا: کیا تجھے خون نفاس آیا فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْحَمِيْلَةِ۔ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔تو آپ نے مجھے بلایا اور میں اسی چادر میں آپ کے ساتھ لیٹ گئی۔اطرافه: ۳۲۲، ۳۲۳، ۱۹۲۹۔تشریح : مَنْ سَمَّى النِّفَاسَ حَيْضًا : باب کا بھی وہ مضمون ہے جو پہلے بالوں کا ہے۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا حیض آنے پر بستر سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔سمجھیں کہ کہیں چھونے سے آپ کا بدن ناپاک نہ ہو جائے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے ساتھ لیٹے رہنے کے لئے فرمایا۔اگلے باب میں اس امر کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔عنوان باب میں لفظ نفاس کی تشریح ضمنا کی گئی ہے۔بَاب ٥ : مُبَاشَرَةُ الْحَائِضِ حائضہ سے بدن لگانا ۲۹۹ : حَدَّثَنَا قَبِيْصَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ۲۹۹: ہم سے قبیصہ نے بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ سُفْيَانُ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ عَنِ سفیان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے منصور سے منصور الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ نے ابرہیم سے، ابراہیم نے اسود سے اسود نے کا أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔کہتی تھیں کہ میں اور نبی