صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 388 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 388

صحيح البخاری جلد ) حَائِضٌ ثُمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ۔طرفه: ٧٥٤٩۔تشریح: ۳۸۸ ٦ - كتاب الحيض حائضہ ہوتی۔پھر آپ قرآن مجید پڑھتے۔قِرَأَةُ الرَّجُلِ فِى حَجْرٍ۔۔۔الْحَائِضِ : تیسرا باب بھی اسی وسعت خیال پر روشنی ڈالنے کے لئے باندھا گیا ہے، جسے مسلمانوں میں نبی ﷺ نے حائضہ عورتوں کے متعلق نفرت مٹا کر پیدا کیا تھا۔اس سے پہلے بنی اسرائیل میں بھی اور عرب میں بھی حائضہ کے لئے کسی مقدس کتاب کو چھونا کیا؛ اس کے سنے سُنانے کو بھی حرام سمجھا جاتا تھا۔آپ نے اس قسم کے تمام نفرت آمیز احساسات اپنے پاک نمونہ سے مٹادئے۔آپ کے اس پاک نمونہ کا اثر تابعین میں بھی قائم رہا۔اس کے بعد پرانی حالت آہستہ آہستہ عود کر آئی۔یہاں تک کہ اب پھر ویسے خیالات حائضہ کے متعلق مسلمانوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور وہ قرآنِ مجید پڑھنا تو درکنار اس کا چھونا بھی حائضہ کے لئے ناجائز سمجھتے ہیں۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عنوان باب میں دو مشہور تابعین کا حوالہ اسی غرض سے دیا ہے کہ اس چھوت چھات کے مسئلہ کی غلطی واضح ہو۔اس باب سے یہ بتلانا مقصود نہیں کہ لوگ اپنی بیوی کے پہلو پر سر رکھ کر قرآن مجید ضرور پڑھا کریں بلکہ صرف یہ ثابت کر نا مد نظر ہے کہ جمہور کا خیال غلط ہے کہ حائضہ ان معنوں میں ناپاک ہوتی ہے کہ وہ قرآن مجید کو بھی نہیں چھو سکتی۔باب مذکور میں امام موصوف نے مسلمانوں کے غلط خیال کی اصلاح کی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں آرام فرماتے۔سرہانہ نہ ہوتا تو حضرت عائشہ کی گود میں سر رکھ لیتے اور کبھی اس حالت میں وہ حائضہ بھی ہوتیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید پڑھنے سے دریغ نہ ہوتا۔جس طرح حضرت عائشہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حافظ قرآن مجید تھے سہارا دیئے رکھنا قرآن مجید کے ادب و حرمت کے خلاف نہ تھا اسی طرح حائضہ کے قرآن مجید اٹھانے سے بھی کتاب اللہ کی بے حرمتی نہیں ہوتی۔امام ابو حنیفہ نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے؛ برخلاف دیگر فقہاء کے۔(فتح الباری جلد اول صفحه ۵۲۲) اس جگہ یادر ہے کہ حضرت عائشہ اور دیگر ازواج مطہرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات منزلیہ کے واقعات جو بتلائے ہیں تو وہ محض اس لئے کہ تا زمانہ جاہلیت کے ان لغو خیالات کی اصلاح ہو جو آپ کی وفات کے بعد بھی اپنا اثر کسی نہ کسی رنگ میں دکھلاتے رہتے تھے۔جیسا کہ جنبی کے چھونے سے برتن کا ناپاک ہو جانا یا یہ کہ مردو عورت کا اکٹھے ایک برتن سے نہانا اور نیز یہ مسئلہ جو زیر بحث ہے۔صحابہ یا تابعین ذرا سے اختلاف یا شک پرسنت نبویہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔بلا ضرورت اور بلا وجہ آپ کی بیویاں ان باتوں کا کبھی اظہار نہ کرتی تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی منزلی زندگی میں بھی ہم دونوں باتیں پہلو بہ پہلود یکھتے ہیں۔ایک طرف اپنی بیویوں سے جذبات محبت کا اظہار ہے۔اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی محبت کا جذبہ بھی اپنا کام نمایاں طور پر کر رہا ہے۔ہر انسان اپنی بیوی سے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں۔لیکن قابل غور امر یہ کہ لوگ عموماً ان جذبات میں ایسے طور سے اوندھے ہو جاتے ہیں کہ آسمان کی طرف ان کی نگاہ نہیں اُٹھتی۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات اس حالت میں بھی ذکر حبیب میں مشغول ہو جاتی ہے اور آپ اُس کے کلام میں اپنی اصلی راحت سمجھتے ہیں۔(اللَّهُمْ صَلِّ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)