صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 380
صحيح البخاري - جلد ا ۳۸۰ ۵- كتاب الغسل تشريح : إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ : امام بخاری رحمہ ال علی نے ای اور اختلافی مسلک کی وجہ سے دو باب کے بعد دیگرے قائم کئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آیا محض مباشرت کی وجہ سے نہانا ضروری ہوتا ہے یا یہ کہ نہانے کے لیے انزال شرط ہے۔ اس فتوی کی رو سے جس کی تفصیل کتاب الوضو میں گذر چکی ہے؛ انزال نہ ہونے کی حالت میں صرف وضو کرنا ضروری ہے۔ (دیکھیں روایت نمبر ۱۸۰،۱۷۹) اور حضرت ابوہریرہ کی اس روایت کی رو سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انزال ہونے یا نہ ہونے کی کوئی شرط نہیں بلکہ اعضائے تناسل کے ملنے سے نہانا واجب ہو جاتا ہے۔ جن علماء کا یہ مذہب ہے وہ حضرت ابو ہریرہ کی اس روایت کو مشار الیہا روایتوں کا ناسخ سمجھتے ہیں۔ مگر امام نووی نے ثُمَّ جَهَدَهَا کے الفاظ سے انزال کا استدلال کیا ہے جو ایک معقول استدلال ہے اور اس طرح انہوں نے ان روایتوں کے ظاہری اختلاف کو حل کیا ہے۔ مشار الہیا روایتوں کو منسوخ سمجھنے والے فقہاء قتادہ کی اُس روایت سے استدلال کرتے ہیں جو امام بیہقی نے نقل کی ہے اور جس میں جَهَدَهَا کے الفاظ نہیں بلکہ یہ الفاظ ہیں إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔ فتح الباری جزء اول صفحہ ۵۱۲-۵۱۳) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے انہی علماء کے نقطہ نظر کی طرف متوجہ کرنے کے لیے عنوان باب میں اِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ کے الفاظ اختیار کئے ہیں مگر اس کے ذیل میں روایت وہ پیش کی ہے جس میں تم جَهَدَهَا کے الفاظ ہیں اور وہ باعتبارسند کے زیادہ معتبر ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نسل کے لیے انزال ضروری ہے۔ روایت نمبر ۱ ۲۹ کے آخیر میں عمرو بن مرزوق کی متابعت کا ذکر کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انہوں نے بھی ہشام کی طرح جَهَدَهَا کے الفاظ روایت کئے ہیں اور ان کی روایت بھی قتادہ سے ہے، نہ حسن سے براہ راست۔ موسیٰ بن اسماعیل کی روایت کی طرف اشارہ کر کے اس امر کی تصریح کر دی ہے کہ قتادہ نے براہ راست حسن سے سنا تھا اور اس میں جَهَدَھا ہے۔ غرض ان حوالوں سے بیہقی کی روایت کو کمزور ثابت کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے: هَذَا أَجْوَدُ وَ مُؤَكَّد یعنی ہشام کی مذکورہ بالا روایت عمدہ ہے اور اس میں التقاء ختانین کی تشریح ہے یعنی جب مباشرت میں انتہائی قوت صرف ہو جائے تو نہانا ضروری ہو جاتا ہے۔ وَالْغُسْلُ اَحْوَطُ یعنی انزال نہ ہونے کی صورت میں نہانا بطور احتیاط کے ہے نہ اس لیے کہ حضرت ابو ہریرہ کی مذکورہ بالا روایت مستند روایتوں کی ناسخ ہے۔ باب ۲۹ : غَسْلُ مَا يُصِيبُ مِنْ فَرْجِ الْمَرْأَةِ عورت کی شرمگاہ سے جو رطوبت لگ جاتی ہے؛ اس کو ڈھونا ۲۹۲ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ ۲۹۲ ہم سے ابو معمر نے بیان کیا کہ عبدالوارث الْوَارِثِ عَنِ الْحُسَيْنِ قَالَ يَحْيَى وَ نے حسین سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارِ کہ کیا نے کہا: ابوسلمہ نے مجھے بتلایا کہ انہیں عطاء أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ بن یسار نے خبر دی کہ زید بن خالد جہنی نے انہیں بتلایا