صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 377 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 377

صحيح البخاري - جلد ا -۵- كتاب الغسل عمومیت کی صورت اسی مروجہ باطل خیال کو مد نظر رکھتے ہوئے اختیار کی ہے۔سونے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو ہمیشہ کیا کرتے تھے ، خواہ حالت جنابت میں ہوں یا نہ ہوں۔بَاب ٢٦ : نَوْمُ الْجُنُبِ جنبی کا سونا ۲۸۷ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ۲۸۷ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: لیث نے اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے نافع سے۔نافع نے الْخَطَّابِ سَأَلَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبْ ہم میں سے کوئی اس حالت میں سو جائے کہ وہ جنبی ہو۔آپ نے فرمایا : ہاں۔جب تم میں سے کوئی وضو کر لے اور وہ جنبی ہو تو وہ سوسکتا ہے۔قَالَ نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْقُدْ وَهُوَ جنب۔اطرافه: ۲۸۹، ۲۹۰ تشریح نَوْمُ الْجُنُبِ : صحابہ میں یہ خیال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے ماتحت پیدا شدہ معلوم ہوتا ہے جو کتاب الوضوء کے آخر میں مذکور ہے۔آپ نے فرمایا: وضو کر کے بحالت طہارت سویا جائے۔اس سے طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پھر جنسی بھی جب تک نہانہ لے نہ سوئے۔آپ نے سہولت دی اور فرمایا: وضو کر کے سو جائے۔اس اجازت سے ظاہر ہے کہ جنابت اپنی ذات میں ایسی ناپاکی نہیں جو معنوی حالت طہارت کے منافی اور اسے زائل کرنے والی ہو، بلکہ وضو کرنے سے قائم رہے گی یہ نقطہ واضح کرنے کے لیے امام بخاری نے نَوْمُ الْجُنُبِ کا عنوان علیحد ہ قائم کیا ہے۔بَابِ ۲۷ : الْجُنُبُ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَنَامُ جنبی وضو کرے پھر سوئے ۲۸۸ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ ۲۸۸ ہم سے سجی بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عبید اللہ بن ابی جعفر سے۔عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُرْوَةَ عبید اللہ نے محمد بن عبدالرحمان سے۔انہوں نے عروہ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله سے۔عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ انہوں