صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 376 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 376

صحيح تشریح: ی جلد ا -۵- كتاب الغسل الْجُنُبُ يَخْرُجُ وَ يَمْشِي فِی السُّوقِ : چوبیسویں باب میں اس خیال کا رد کیا گیا ہے کہ جنبی جب تک نہانہ لے، کوئی کام کاج نہ کرے۔اسلام جنابت کو ایسی ناپاکی نہیں سمجھتا کہ جس کی وجہ سے دوسروں کو چھونا بھی جائز نہ ہو اور جو باہر چلنے پھرنے اور کام کاج کرنے سے مانع ہو۔روایت نمبر ۲۸۴ کی شرح روایت نمبر ۲۶۷ میں دیکھیں۔وہاں تفصیل سے بتلایا گیا ہے کہ طواف کرنے سے مراد صرف خبر گیری ہے اور یہ کہ صرف قیاس کیا گیا ہے کہ اس اثناء میں آپ نے کسی بیوی سے مباشرت بھی کی ہو۔عنوان باب کے ماتحت یہ روایت اس لیے لائی گئی ہے کہ جنبی کے لیے کام کاج کرنا ممنوع نہیں اور باب میں عطاء بن ابی رباح رحمتہ اللہ علیہ کا قومی نقل کر کے یہ بتلایا گیا ہے کہ کام کاج کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ وضو ہی کرے۔حسن بصری وغیرہ وضو کرنا مستحب سمجھتے تھے۔(عمدۃ القاری جزء سوم صفحہ ۲۴۰) مگر حضرت انس کی اس روایت میں وضو کا کہیں ذکر نہیں۔روایت نمبر ۲۸۵ کا مضمون روایت نمبر ۳ ۲۸ میں گذر چکا ہے۔بوجہ اختلاف سند کے کچھ لفظی تغیر ہے۔بَاب ٢٥ : كَيْنُوْنَةُ الْجُنُبِ فِي الْبَيْتِ إِذَا تَوَضَّأَ قَبْلَ أَنْ يُغْتَسِلَ جنبی کا گھر میں ہوتا جبکہ وہ نہانے سے پہلے وضو کر لے ٢٨٦: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۲۸۶ ابوہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام اور هِشَامٌ وَ شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ شیبان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے تیجی سے سیمی نے قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ابو سلمہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا: آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْقُدُ وَهُوَ جُنُبْ قَالَتْ نَعَمْ وَيَتَوَضَّأُ طرفه: ۲۸۸۔شریح حالت میں سویا کرتے تھے کہ آپ جنبی ہوں تو انہوں نے کہا: ہاں اور آپ وضو کر لیا کرتے تھے۔كَيْنُونَةُ الْجُنُبِ فِي الْبَيْتِ: اس باب کے باندھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ حضرت علی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: لَا تَدْخُلُ الْمَلَئِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ صُورَةٌ وَّ لَا كَلْبٌ وَلَا جنب ابوداؤد، کتاب اللباس، باب فی الصور) یعنی ملائکہ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر یا جنبی ہو۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک یہ روایت کمزور ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۵۰۸ ) یہودیوں کے نزدیک وہ جگہ بھی ناپاک ہوتی تھی جہاں جنسی کھڑا ہوتا تھا۔اس قسم کے خیالات عربوں میں بھی موجود تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان میں اس قسم کی روایتیں پائی جاتی تھیں اور ایسے مسائل پوچھے جاتے تھے۔روایت نمبر ۲۸۶ سے ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے کے متعلق پوچھا گیا تھا اور باب کا عنوان یہ قائم کیا گیا ہے: كَيْنُونَةُ الْجُنُبِ فِي الْبَيْتِ بَيْت عربی میں سونے کے کمرہ کو کہتے تھے اور دار کا لفظ گھر کے معنوں میں استعمال ہوتا تھا۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عنوانِ باب میں