صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 372 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 372

صحيح البخاري - جلد ا ۳۷۲ ۵- كتاب الغسل فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ فَقَالَ فاطمہ آپ کو پردہ کئے ہوئے تھیں۔ آپ نے مَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ أَنَا أُمُّ هَانِي۔ پوچھا: یہ کون ہے؟ تو میں نے کہا: ام ھانی ہوں ۔ اطرافه ٣٥٧، ٣١٧١، ٦١٥٨۔ ۲۸۱ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا ۲۸۱ : ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: سفیان نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے اعمش سے۔ اعمش نے سالم بن ابی جعد الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ سے۔ ابو جعد نے کریب سے۔ کریب نے حضرت كُرَيْبِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَّيْمُوْنَةَ قَالَتْ ابن عباس سے۔ حضرت ابن عباس نے حضرت سَتَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ میمونہ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں، میں نبی نے کو صلى يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ صَبَّ پردہ کئے ہوئے تھی اور آپ غسل جنابت فرمار ہے بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ وَمَا تھے ۔ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے پھر اپنے أَصَابَهُ ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى الْحَائِطِ أَوِ دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اپنی الْأَرْضِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُونَهُ لِلصَّلَاةِ غَيْرَ شرم گاہ کو اور جو کچھ اسے لگا ہوا تھا اسکو دھویا ۔ پھر اپنا رِجْلَيْهِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ الْمَاءَ ثُمَّ ہاتھ دیوار یا زمین پر ملا۔ پھر آپ نے وضو کیا جیسا کہ نماز کے لیے آپ وضو کیا کرتے تھے ۔ آپ نے تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ تَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ وَابْنُ فُضَيْلٍ فِي السَّتْرِ۔ پاؤں نہیں دھوئے ۔ اس کے بعد آپ نے اپنے جسم پر پانی ڈالا۔ پھر ایک طرف ہو کر آپ نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔ ابوعوانہ اور ابن فضیل نے پردہ کرنے کے متعلق انہی کی طرح حدیث بیان کی ۔ اطرافه ٢٤٩ ، ٢٥٧، ٢٥٩ ، ٢٦٠ ، ٢٦٥، ٢٦٦، ٢٧٤، ٢٧٦۔ تشريح : التَّسَتُرُ فِي الْغُسْلِ عِنْدَ النَّاسِ : خلوت میں برہنہ نہانے کے متعلق جواز کی صورت بیان کرنے کے بعد اکیسواں باب باندھا ہے جس کا خلاصہ یہ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر لوگوں کے قریب نہانے کے لیے مجبور ہو تو پردہ کر لیا جائے ۔ شارع اسلام نے حیا کی صفت پیدا کرنے اور اس کو محفوظ رکھنے کے لیے بہت سی احتیاطیں اختیار کی ہیں جن میں سے ایک یہ احتیاط ہے: صرف بیوی کو مشروعہ تعلقات کی وجہ سے اجازت ہے کہ وہ اکھٹے نہا سکتے ہیں