صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 366 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 366

صحيح البخاري - جلد ا ۳۶۶ -۵- كتاب الغسل بِالْحَجَرِ ضَرْبًا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ کو دیکھ لیا اور انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم موسی“ کو تو إِنَّهُ لَنَدَبٌ بِالْحَجَرِ سِتَّةَ أَوْ سَبْعَةٌ کوئی بیماری نہیں۔آپ نے اپنے کپڑے (اس سے) ضَرْبًا بِالْحَجَرِ۔اطرافه: ٣٤٠٤، ٤٧٩٩۔لے لیے اور حجر کو مارنے لگے۔حضرت ابو ہریرۃ نے کہا: اللہ کی قسم اس حجر پر چھ یا سات زخم کے نشان ہیں اس مار کی وجہ سے جو حجر کو پڑی۔۲۷۹ : وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ :۲۷۹ اور حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَيُّوبُ ﷺ نے فرمایا کہ ایک دفعہ حضرت ایوب ننگے نہا يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا فَخَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ رہے تھے کہ سونے کی مکڑیاں ان پر آگریں اور حضرت ایوب انہیں اپنے کپڑے میں لپیں بھر بھر کر ڈالنے ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوْبُ يَحْتَنِيْ فِي ثَوْبِهِ لگے۔اس پر ان کے رب نے انہیں پکارا: ایوب ! کیا فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ میں نے تجھے اس سے جس کو تو دیکھ رہا ہے، بے نیاز عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى وَعِزَّتِكَ وَلَكِنْ لَا نہیں کر دیا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، بے شک تیری غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ عزت کی قسم۔لیکن مجھے تیری برکت سے بے نیازی عَنْ مُّؤْسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنَ نہیں ہے۔یہ روایت ابراہیم نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے صفوان بن سلیم سے،صفوان نے عطاء بن سُلَيْمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي بسیار سے۔عطاء نے حضرت ابو ہریرہ سے۔حضرت هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔انہوں نے یوں وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا کہا: اسی اثناء میں کہ حضرت ایوب ننگے نہا رہے تھے۔اطرافه: ۳۳۹۱، ٧٤۹۳۔۔تشریح : مَنِ اغْتَسَلَ عُرْيَانًا وَحْدَهُ فِي الْخَلْوَةِ وَمَنْ تَسَخَّرَ : بیسویں باب میں دو سکوں کے متعلق عنوان قائم کئے گئے ہیں۔ایک یہ کہ تنہائی میں ننگے ہو کر غسل کرنا اور دوسرے تنہائی میں اپنا نگ ڈھانپ کر نہانا۔امام مالک امام شافعی اور اکثر علماء نے خلوت میں نگا ہو کر نہانا اگر چہ جائز قرار دیا ہے مگر پردہ کرنا ان کے نزدیک بہتر ہے۔فقہاء میں سے بعض نگا نہانا ہر حالت میں حرام سمجھتے ہیں۔(تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء اول صفحہ ۵۰۰، عمدۃ القاری جزء سوم صفحہ ۲۲۸) اور یہ اپنی تائید میں بہر کی وہ روایت پیش کرتے ہیں جس کا حوالہ امام بخاری نے عنوانِ باب میں دیا ہے۔ابو داؤد، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے مشار الہیا روایت اپنی اپنی مسندوں میں نقل کی ہے۔بہر بن حکیم اپنے باپ سے