صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 365
صحيح البخارى جلد ا ۳۶۵ ۵- كتاب الغسل باب ۲۰: مَنِ اغْتَسَلَ عُرْيَانًا وَحْدَهُ فِي الْخَلْوَةِ وَمَنْ تَسَيَّرَ فَالتَّسَتُّرُ أَفْضَلُ جو خلوت میں تنہا بر ہنہ نہائے اور جو پردہ کرے تو پردہ زیادہ اچھا ہے وَقَالَ بَهْرٌ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِهِ اور بہر نے کہا کہ ان کے باپ سے مروی ہے، انہوں صلى الله عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللهُ أَحَقُّ نے اپنے دادا سے، ان کے دادا نے نبی ﷺ روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ زیادہ حقدار ہے اس بات کا کہ لوگوں کی نسبت اس سے حیا کی جائے۔أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ۔۲۷۸ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ :۲۷۸ ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامٍ عبد الرزاق نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے معمر سے۔معمر ابْنِ مُنَبِّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى نے ہمام بن منبہ سے، ہمام نے حضرت ابو ہریرہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ سے۔حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی يَغْتَسِلُوْنَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ کہ آپ نے فرمایا: بنی اسرائیل جنگے نہایا کرتے تھے ( اور ) وہ ایک دوسرے کو دیکھا کرتے تھے اور حضرت وَكَانَ مُؤْسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوْسَى أَنْ يُغْتَسِلَ مَعَنَا موسی اکیلے نہایا کرتے تھے تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم موسیٰ کو ہمارے سامنے نہانے سے سوائے اس إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ فَذَهَبَ مَرَّةً يُغْتَسِلُ فَوَضَعَ کے اور کوئی بات نہیں روکتی کہ وہ فتق سے بیمار ہے۔ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ ایک دفعہ حضرت موسیٰ" نہانے کے لیے گئے اور اپنے فَخَرَجَ مُوْسَى فِي إِثْرِهِ يَقُوْلُ ثَوْبِي يَا کپڑے حجر کے پاس رکھے اور حجر آپ کے کپڑے حَجَرُ ثَوْبِي يَا حَجَرُ } حَتَّى نَظَرَتْ لے کر بھاگ گیا تو حضرت موسیٰ اس کے پیچھے بَنُو إِسْرَائِيْلَ إِلَى مُوسَى فَقَالُوْا وَاللَّهِ دوڑے اور یہ کہتے جاتے تھے: حجر! میرا کپڑا۔مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ وَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ اجرا میرا کپڑا یے ) آخر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ" ا لفظ ”فَخَرَجَ“ کی جگہ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں فَجَمَحَ“ کا لفظ ہے۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ۵۰۰) فتح الباری مطبوعہ بولاق میں ثُوبِی يَا حَجَرُ دو دفعہ ہے (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۵۰۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔