صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 364 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 364

صحيح البخاري - جلد ا -۵- كتاب الغسل خِرُقَةً فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَلَمْ يُرِدُهَا - باب ۱۶ روایت ۲۷۴ میں یہ ہیں : فَاتَيْتُهُ بِخِرُقَةٍ فَلَمْ يُرِدُهَا فَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ بِيَدِه - باب ۸ ۱ روایت ۲۷۶ میں یہ ہیں : فَنَاوَلْتُهُ ثَوْبًا فَلَمْ يَأخُذْهُ فَانْطَلَقَ وَهُوَ يَنْفُضُ يَدِيهِ۔بابا کی روایت فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا کا وہی مفہوم ہے جو دوسری روایتوں میں فَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ بِيَدِهِ کا ہے۔امام بخاری کی کتاب کی یہ بھی ایک خصوصیت ہے کہ روایت دُھراتے ہوئے جہاں وہ نئے مسئلہ کا استنباط کرتے ہیں وہاں اس کی نئی سند بیان کر کے اس کو کمال صحت تک پہنچا دیتے ہیں جیسا کہ دیباچہ کتاب میں اس کی وضاحت کی جاچکی ہے نیز اس مثال سے یہ بھی واضح ہوگا کہ روایت باللفظ میں متشد دین کا مذہب درست نہیں۔اس قسم کا لفظی تغیر کہ جس سے معنی میں فرق نہ آئے ایک طبعی امر ہے جس سے کوئی چارہ نہیں اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس قدر فرق کو قبول کیا ہے۔بَاب ۱۹ : مَنْ بَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ فِي الْغُسْلِ جو نسل میں اپنے سر کے دائیں حصہ سے شروع کرے۔۲۷۷ : حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى قَالَ ۲۷۷ ہم سے خلاد بن یحیی نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ابراہیم بن نافع نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے حسن بن مُسْلِمٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ مسلم سے۔حسن نے صفیہ بنت شیبہ سے۔صفیہ نے قَالَتْ كُنَّا إِذَا أَصَابَتْ إِحْدَانَا جَنَابَةٌ حضرت عائشہ سے روایت کی کہ ہم میں سے جب ثَلَاثًا فَوْقَ رَأْسِهَا ثُمَّ کوئی جنسی ہوتی تو وہ اپنے ہاتھوں سے تین بار پانی بِيَدَيْهَا تَأْخُذُ بِيَدِهَا عَلَى شِقِّهَا الْأَيْمَنِ وَ بِيَدِهَا لے کر اپنے سر پر ڈالتی پھر اپنے ہاتھ سے اپنے داہنے الْأُخْرَى عَلَى شِقّهَا الْأَيْسَرِ۔حصہ پر ڈالتی اور دوسرے ہاتھ سے اپنے بائیں حصہ أَخَذَتْ کو دھوتی۔: تشریح : مَنْ بَدَأْ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ فِی الْغُسْلِ: باب میں بھی ان معنوں کی ایک روایت گذر چکی ہے۔وہاں نبی ﷺ کی سنت کا ذکر ہے اور یہاں نبی ﷺ کی بیویوں کے عمل درآمد کا۔آنحضرت نے اپنی بیویوں کی عملی زندگی اپنے پاک نمونے کے سانچے میں ڈھال دی ہوئی تھی اور وہ بھی وہی کرتیں جو آپ کو کرتے دیکھتیں اور ان کے ذریعہ سے دیگر صحابہ کی عورتوں کی تربیت ہوئی۔صحابہ اور تابعین آنحضرت ﷺ کی حیات منزلیہ کے متعلق آپ کی بیویوں سے پوچھتے پچھواتے۔جن لوگوں کو مزید تحقیق کی ضرورت ہوتی وہ بعض معاملات کے متعلق خود بھی پوچھ لیتے۔حضرت عائشہ سے یہ روایت کرنے والی شیبہ بن عثمان عجیبی قرشی کی بیٹی صفیہ ہیں۔یہ آنحضرت کے زمانہ میں چھوٹی تھیں۔(عمدۃ القاری جز سوم صفحہ ۲۲۷ )