صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 363 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 363

صحيح البخاري - جلد ا ۳۶۳ ۵- كتاب الغسل بَاب ۱۸ : نَفْضُ الْيَدَيْنِ مِنَ الْغُسْلِ عَنِ الْجَنَابَةِ غسل جنابت کر کے ہاتھ جھاڑنا ٢٧٦ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا ۲۷۶: ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: ابوحمزہ نے أَبُو حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ عَنْ ہمیں بتلایا ۔ انہوں نے کہا: میں نے اعمش سے سنا۔ سَالِمٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وه سالم ( بن ابی جعد ) ۔ وہ سالم ( بن ابی جعد ) سے، سالم کریب سے، کریب قَالَتْ مَيْمُونَةُ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى حضرت ابن عبا ابن عباس سے روایت کرتے سے روایت کرتے تھے ۔ انہوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَسَتَرْتُهُ بِثَوْبٍ نے کہا: حضرت میمونہ کہتی تھیں کہ میں نے نبی ہے صلى الله عل وسلم کپڑے سے وَصَبَّ عَلَى يَدَيْهِ فَعَسَلَهُمَا ثُمَّ صَبَّ کے لیے نہانے کا پانی رکھا کا پانی رکھا اور آپ کو ایک کپڑ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ پردہ کیا۔ آپ نے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں دھویا۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ پر فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَهَا ثُمَّ پانی ڈالا اور اپنی شرمگاہ کو دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ زمین پر غَسَلَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ رکھا اور اسے ملا۔ پھر اسے دھویا۔ پھر گلی کی اور ناک وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ میں پانی لیا اور اپنے چہرے اور اپنے دونوں بازوؤں وَأَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ کو دھویا۔ اس کے بعد آپ نے اپنے سر پر پانی ڈالا قَدَمَيْهِ فَنَا وَلْتُهُ ثَوْبًا فَلَمْ يَأْخُذْهُ فَانْطَلَقَ اور اپنے جسم پر (پانی) بہا دیا۔ پھر ایک طرف ہو گئے وَهُوَ يَنْفُضُ يَدَيْهِ۔ اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر میں نے آپ کو ایک کپڑا دیا تو آپ نے اسے نہ لیا اور آپ چل پڑے۔ آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو جھاڑتے جاتے تھے۔ اطرافه ٢٤٩، ٢٥٧ ، ٢٥٩ ، ٢٦٠ ، ٢٦٥، ٢٦٦، ٢٧٤، ٢٨١۔ تشریح : وَهُوَ يَنقُضُ يَدِيهِ: یہ باب بھی ایک نا خیال ر کرنے کے لیے باندھا گیا ہے اوروہ یہ کہ مسل جنابت کا پانی جسم سے نہیں جھاڑنا چاہیے تا کہ اس کے ساتھ عبادت کا اثر نہ جھڑ جائے۔ (عمدۃ القاری جزء سوم صفحہ ۲۴۶) آپ نے ہاتھ جھاڑ کر پانی دور کیا اور کپڑے سے نہیں پونچھا۔ غالبا اس لیے کہ کپڑا صاف نہ ہوگا۔ یہ روایت متعدد بار آچکی ہے اور : اور ہر روایت میں بوجہ اختلاف سند الفاظ میں کچھ نہ کچھ تغیر : کچھ نہ کچھ تغیر ہوا ہے، لیکن مفہوم قائم رہا ہے۔ باب سے روایت ۲۵۹ میں یہ الفاظ ہیں : ثُمَّ أُتِيَ بِمِنْدِيلٍ فَلَمْ يَنْفُضْ بِهَا - بابا اروایت ۲۶۶ میں یہ ہیں: فَنَاوَلْتُهُ