صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 360
صحيح البخاري - جلد ا ۳۶۰ ۵- كتاب الغسل دیکھئے: بداية المجتهد كتاب الغسل۔الباب الأول فى معرفة العمل في هذه الطهارة المسئلة الثالثة۔الجزء الأول۔صفحة ٤٤ ) نبی کریم ﷺ کا عمل درآمد مذکورہ بالا روایت سے واضح ہے۔بَابِ١٦: مَنْ تَوَضَّأَ فِي الْجَنَابَةِ ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ وَلَمْ يُعِدْ غَسْلَ مَوَاضِعِ الْوُضُوْءِ مَرَّةً أُخْرَى جو جنابت ( کی حالت ) میں وضو کرے پھر اپنا ( باقی ماندہ ) سارا جسم دھوئے اور اپنے وضو کرنے کی جگہیں دوبارہ نہ دھوئے ٢٧٤ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِیسَی قَالَ :۲۷۴ ہم سے یوسف بن عیسی نے بیان کیا، کہا: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا فضل بن موسیٰ نے ہمیں بتلایا، انہوں نے کہا: اعمش الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَی نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے سالم سے۔سالم ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَّيْمُونَةَ نے حضرت ابن عباس کے مولیٰ کریب سے۔کریب قَالَتْ وَضَعَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ نے حضرت ابن عباس سے۔حضرت ابن عباس نے حضرت میمونہ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں : رسول اللہ وَسَلَّمَ وَضُوْءَ الْجَنَابَةِ فَأَكْفَأَ بِيَمِيْنِهِ عَلَى شِمَالِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ نے غسل جنابت کرنے کے لیے پانی رکھا اور اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی دو دفعہ یا تین فَرْجَهُ ثُمَّ ضَرَبَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ أَوِ دفعہ اُنڈیلا۔پھر اپنی شرمگاہ دھوئی۔پھر اپنا ہاتھ زمین الْحَائِطِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ مَضْمَضَ پر یا دیوار پر دو دفعہ یا تین دفعہ ملا۔پھر کلی کی اور ناک وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ میںپانی لیا اور اپنا منہ اور دونوں باز و دھوئے۔پھر أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ثُمَّ غَسَلَ اپنے سر پر پانی بہایا۔پھر اپنا جسم دھویا۔اس کے بعد جَسَدَهُ ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ قَالَتْ ایک طرف ہو گئے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔فَأَتَيْتُهُ بِخِرْقَةٍ فَلَمْ يُرِدْهَا فَجَعَلَ يَنْفُضُ کہتی تھیں کہ پھر میں ایک کپڑا لائی تو آپ نے اسے نہ چاہا اور اپنے ہاتھ سے ( پانی ہو ) جھاڑنے لگے۔{ الْمَاءَ بِيَدِهِ۔اطرافه ٢٤٩، ٢٥٧، ٢٥٩ ، ٢٦٠، ٢٦٥، ٢٦٦، ٢٧٦، ٢٨١ لفظ الْمَاءَ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۴۹۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔