صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 352 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 352

صحيح البخاری جلد ا ۳۵۲ ۵- كتاب الغسل جَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّى مِنْ مَّقَامِهِ فَغَسَلَ ہاتھ دھوئے اور اپنا سر تین بار دھویا۔ اس کے بعد آپ قَدَمَيْهِ۔ نے اپنے جسم پر پانی ڈالا ۔ پھر آپ اس جگہ سے ایک طرف ہو گئے، جہاں آپ کھڑے تھے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ اطرافه: ٢٤٩ ، ٢٥٧ ، ٢٥٩ ، ٢٦٠، ٢٦٦، ٢٧٤، ٢٧٦، ٢٨١۔ تشريح : تَفْرِيقُ الْغُسْلِ وَالْوُضُوءِ : دسویں باب میں دو اختلا اختلافی مسئلوں کا حل کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ نہاتے وقت اگر وضو کی نیت کر لی جائے تو کیا وضو ہو جائے گا یا یہ کہ وضو کا الگ کیا جانا ہی ضروری ہے۔ فقہاء میں سے ایک فریق کا یہ خیال ہے ۔ اِنَّ الْغُسْلَ لَا يَنوُبُ عَنِ الْوُضُوءِ لِلْمُحْدِثِ - بے وضو کے لیے نہانا وضو کے قائم مقام نہیں ہو سکتا۔ ان کے نزدیک وضو الگ کرنا چاہیے اور دوسرے فریق کے نزدیک نہاتے وقت اگر کوئی وضو کی نیت کرلے تو اس کو الگ وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ مذہب امام شافعی کا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس کے بر خلاف ہیں اور مستند روایت کی بناء اور مستند روایت کی بناء پر وہ آنحضرت معال کی سنت پیش کرتے ہ کرتے ہیں کہ آپ وضو وضو الگ کیا کرتے تھے اور غسل الگ۔ تاکہ جو حصے عبادت کے لیے دھوئے جاتے ہیں، نہاتے وقت بھی ان کا دھونا ممتاز رہے اور نہانے والا نہانے میں بھی عبادت کو مد نظر رکھے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ غَسَلَ قَدَمَيْهِ بَعْدَ مَا جَفَّ وَضُوءُ هُ : دوسرا اختلافی مسئلہ یہ ہے کہ آیا نہانے اور وضو میں اعضاء کا مسلسل بغیر وقفہ کے دھونا ضروری ہے یا یہ کہ اگر شروع میں ہاتھ منہ دھو کر بعد میں پاؤں دھو لئے جائیں تو کیا اس سے وضو ہو جائے گا۔ اور آیا اس طرح وقفہ کے ساتھ اعضاء دھونے کا نام وضور کھا جاسکتا ہے۔ امام موصوف نے باب کے عنوان میں وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ غَسَلَ قَدَمَيْهِ ۔۔۔۔ کہہ کر اس اختلافی مسئلہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ امام شافعی نے اپنی مشہور کتاب اُم میں بروایت امام مالک یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت ابن عمر نے بازار میں وضو کیا اور پاؤں نہیں دھوئے۔ مسجد میں واپس جا کر موزوں پر مسح کیا اور نماز پڑھی۔ امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کا یہ مذہب ہے کہ وضو میں اعضاء کا مسلسل دھونا ضروری نہیں ۔ جس نے اعضاء دھوئے اس کا وضو ہو گیا۔ خواہ وقفہ کے دھوئے ہوں۔ جیسا کہ آنحضرت یہ عليه غسل میں وضو وضو کرتے کرتے مگر مگر پاؤں آخر میں دھوتے ۔ نیز انہوں نے حضرت ابن عمر کا فعل اپنے خیال کی تائید میں پیش کیا ہے ۔ امام مالک اس را۔ -- امام مالک اس رائے کے خلاف ہیں اور اعضاء کا اء کا مسلسل یکے بعد دیگرے ترتیب سے دھونا فرض قرار دیتے ہیں ۔ سوائے اس کے کہ کوئی بھول جائے یا یہ کہ وقفہ لمبا نہ ہو، جیسے آنحضرت نے نہاتے وقت پاؤں آخر میں دھوئے ۔ امام بخاری کا بھی اس مسئلہ میں یہی مذہب ہے جس کی تائید میں انہوں ساتھ ہی دھو۔ صلى الله نے حضرت میمونہ کی روایت پیش کی ہے۔ مذکورہ بخشیں فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۸۷ اور عمدۃ القاری جزء سوم صفحہ ۲۱ میں ہیں )