صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 345
صحيح البخاري - جلد ا ۳۴۵ بَاب ٦ : مَنْ بَدَأَ بِالْحِلَابِ أَوِ الطَّيْبِ عِنْدَ الْغُسْلِ جو غسل کرتے وقت حلاب یا خوشبو سے شروع کرے ۵- كتاب الغسل ٢٥٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ :۲۵۸ ہم سے محمد بن شنی نے بیان کیا، کہا: ابو عاصم حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنِ الْقَاسِمِ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے حنظلہ سے۔حنظلہ نے عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ قاسم سے۔قاسم نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ دَعَا وہ کہتی تھیں : نبی ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو بِشَيْءٍ نَحْوَ الْحِلَابِ فَأَخَذَ بِكَفِّهِ فَبَدَأَ حلاب جیسی کوئی چیز منگواتے اور اپنی تھیلی میں لیتے اور اپنے سر کی دائیں طرف سے شروع کرتے پھر بائیں سے اور پھر اپنے سر کے درمیان * دونوں بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ الْأَيْسَرِ فَقَالَ بِهِمَا عَلَى {وَسَطِ رَأْسِهِ۔ہاتھوں سے ڈال کر دھوتے۔و تشریح : مَنْ بَدَأْ بِالْحِلَابِ : چنابابھی سابقہ ہم دورکرنے کی غرضسے باندھا گیا ہے۔یعنی یہ ثابت کیا ہے کہ نبی سے غسل میں بدن پر صرف پانی نہیں بہایا کرتے تھے۔بلکہ حلاب وغیرہ استعمال کر کے اس سے میل دور فرمایا کرتے تھے۔حلاب کیا چیز تھی ؟ شارحین نے اس کے متعلق بہت کچھ اختلاف کیا ہے۔کسی نے کہا کہ یہ اصل میں جلاب لفظ تھا جو گلاب سے معرب ہے اور یہ گلاب کا خوشبو دار پانی تھا جو نہاتے وقت استعمال کیا جاتا تھا اور کسی نے کہا کہ دودھ دوہنے کا برتن تھا جس میں پانی ڈال کر نہایا کرتے تھے۔اسی لیے مسلم نے حلاب کو فرق وغیرہ برتنوں میں شمار کیا ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق یہ سمجھا گیا ہے کہ انہوں نے غلطی سے اسے خوشبو دار پانی سمجھ لیا ہے۔بعضوں نے کہا کہ عظمی کا خیساندہ مراد ہے۔جس سے آپ اپنا سر دھویا کرتے تھے۔جیسا کہ ابو داؤد نے حضرت عائشہ سے اور ابن ابی شیبہ وغیرہ نے حضرت ابن مسعودؓ کی روایتیں اس کے متعلق نقل کی ہیں۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۷۹-۴۸۱) گو یہ روایتیں باعتبارسند کمزور ہیں مگر عام رواج پر نظر ڈالنے سے یہ یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ عرب لوگ بدن سے میل دور کرنے کے لیے ایسی چیزیں استعمال کیا کرتے تھے جیسے ہندوستان میں بٹنہ ، بیسن، چھان وغیرہ اشیاء استعمال کی جاتی ہیں۔وہ عظمی اور اُشنان تو عام طور پر استعمال کرتے تھے۔صابن کی ایجاد پر یہ چیزیں اب تقریبا ترک کر دی گئی ہیں۔۱۹۱۷ء میں فلسطین کے علاقہ میں ایک خاص قسم کے زرد رنگ کے بیچ میں نے دیکھے ہیں جن کو پانی میں ڈال دیتے اور پھر اس کے نقوع سے اہل فلسطین اسی طرح کپڑے وغیرہ دھویا کرتے تھے۔جس طرح ہندوستان میں رینٹھوں سے وَسَطِ» فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۴۷۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔