صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 339 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 339

صحيح البخاری جلد ا ۳۳۹ ۵- كتاب الغسل ٢٥٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ ۲۵۲: ہم سے سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: بیٹی حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ بن آدم نے ہمیں بتلایا ، انہوں نے کہا ، زہیر نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسحاق سے مروی ہے کہ انہوں نے عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ کہا، ابو جعفر نے ہمیں بتلایا کہ وہ اور ان کے باپ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ وَأَبُوهُ حضرت جابر بن عبد اللہ کے پاس تھے اور ان کے وَعِنْدَهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوْهُ عَنِ الْغُسْلِ فَقَالَ پاس کچھ اور لوگ بھی بیٹھے تھے ، انہوں نے حضرت يَكْفِيكَ صَاعٌ فَقَالَ رَجُلٌ مَا يَكْفِيْنِي جابر سے غسل کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ایک فَقَالَ جَابِرٌ كَانَ يَكْفِي مَنْ هُوَ أَوْفَى صاع (پانی) تمہیں کافی ہے۔ ایک شخص بولا: مجھے تو مِنْكَ شَعَرًا وَخَيْرًا مِنْكَ ثُمَّ أَمَّنَا فِي کافی نہیں ہوتا۔ حضرت جابرؓ نے کہا: جس کے بال تم ثَوْبِ۔ اطرافه: ٢٥٥، ٢٥٦ سے زیادہ تھے اور جو تم سے بہتر تھا ، اس کو تو کافی ہوا کرتا تھا۔ پھر اس نے ایک ہی کپڑے میں ہماری امامت بھی کی۔ ٢٥٣ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۲۵۳: ہم سے ابو ٹیم نے: سے ابو میم نے بیان کیا ، کہا: ابن از ابن عیینه ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عمر و سے۔ عمرو نے جابر رض عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بن زید سے، جابر نے حضرت ابن عباس سے روایت وَسَلَّمَ وَمَيْمُوْنَةَ كَانَا يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت میمونہ ایک ہی برتن سے نہایا کرتے تھے۔ اور یزید بن ہارون اور بہر وَاحِدٍ وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ اور جدی نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے (اس وَبَهْرٌ وَالْجُدِيُّ عَنْ شُعْبَةَ قَدْرُ صَاعِ کی مقدار ) ایک صاع بیان کی ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ كَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ابو عبد الله ( بخاری ) نے کہا : ابن عیینہ اپنی آخری عمر يَقُوْلُ أَخِيْرًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ میں یوں روایت کیا کرتے تھے: حضرت ابن عباس وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى أَبُو نُعَيْمٍ۔ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت میمونہ سے روایت کی ۔۔۔۔۔ اور درست وہی ہے جو ابو تھیم نے روایت کیا۔