صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 338
صحيح البخاري - جلد ا ۳۳۸ ۵- كتاب الغسل وَّاحِدٍ مِنْ قَدَحِ يُقَالُ لَهُ الْفَرَقُ۔علیہ وسلم ایک ہی برتن یعنی پیالے سے جسے دو ہنی کہتے ہیں، نہایا کرتے تھے۔اطرافه ،٢٦١ ، ٢٦٣ ، ٢٧٣، ٢٩٩، ٥٩٥٦، ٧٣٣٩۔تشریح: إن كُنتُم جُنبا سے مراد مرد اور عورت دونوں ہیں۔لفظ جُنُب مذکر و مؤنث اور مفردو جمع سب کے لیے یکساں ہے۔قرآن مجید کا یہ کم با تمیز جنس دونوں کے لیے ہے اور اس کی تشریح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً فرمائی ہے۔یعنی جنبی ہونے کی حالت میں آپ خود بھی نہائے اور اپنے ساتھ اپنی بیوی کو بھی نہلایا۔اس بارے میں لوگ اکثر تساہل سے کام لیتے ہیں۔مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ نہانے کی چنداں پرواہ نہیں ہوتی اور وہ خود بھی بہت شست و کابل واقع ہوتی ہے اور شریعت کے اس حکم کی پابندی میں نہایت لا پرواہی سے کام لیتی ہے۔اس لیے مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی سے بھی اس حکم کی تعمیل کرائے۔فَرق جس کا ترجمہ دو ہنی کیا گیا ہے ، ۶ ارطل یعنی نو سیر آٹھ چھٹانک کا ہوتا ہے۔بَابِ ٣ : الْغُسْلُ بِالصَّاعِ وَنَحْوِهِ صاع وغیرہ سے نہانا ٢٥١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ ۲۵۱ ہم سے عبد اللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عبد الصمد نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: شعبہ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ قَالَ نے مجھے بتلایا۔کہا: ابوبکر بن حفص نے مجھ سے بیان سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يَقُوْلُ دَخَلْتُ أَنَا وَ أَخُو کیا ، کہا: میں نے ابوسلمہ سے سنا۔وہ کہتے تھے : میں عَائِشَةَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ اور حضرت عائشہ کا بھائی، حضرت عائشہ کے پاس اندر غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گئے اور ان کے بھائی نے ان سے نبی ﷺ کے نہانے کے متعلق پوچھا تو حضرت عائشہ نے ایک برتن منگوایا فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوِ مِّنْ صَاعِ فَاغْتَسَلَتْ جو تقریباً صاع کے برابر تھا اور وہ نہائیں اور اپنے سر وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا پر پانی ڈالا۔اور ہمارے اور ان کے درمیان پردہ تھا۔حِجَابٌ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ ابوعبد الله ( بخاری ) نے کہا کہ یزید بن ہارون اور بہنر هَارُوْنَ وَبَهْرٌ وَالْجُدِيُّ عَنْ شُعْبَةَ قَدْرِ اور جدی نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: ایک صاع کے اندازے کے برابر۔صاع۔