صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 331
صحيح البخاری جلد ا ۳۳۱ ۴- كتاب الوضوء أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي میں نے اپنے تئیں کلیہ تیرے حوالے کر دیا ہے اور اپنا إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً معاملہ تجھے سونپ دیا ہے اور تیرے آسرے پر اپنی وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا پیٹھ رکھ دی ہے، امید رکھتے ہوئے، ڈرتے ہوئے ۔ إِلَيْكَ اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي تیرے ہی حضور آتا ہے نہ کوئی جائے پناہ ہے اور نہ چھ أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ سے بچ کر کوئی بھاگنے کی صورت اور نہ نجات کی جگہ، مگر تیرے ہی پاس۔اے اللہ ! میں تیری اس کتاب مُّتَ مِنْ لَيْلَتِكَ فَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ ر جس کو تو نے اُتارا ہے اور تیرے اس نبی پر جس کو وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ قَالَ تُو نے بھیجا ہے، ایمان لایا۔ پس اگر تم اس رات فَرَدَّدْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مر گئے تو تم فطرت پر ہی ہو گے اور یہ کلمات سب سے وَسَلَّمَ فَلَمَّا بَلَغْتُ اللَّهُمَّ آمَنْتُ آخری بات ہو جو تم کہو۔ (حضرت براء ) کہتے تھے: بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ قُلْتُ وَرَسُولِكَ میں نے یہ کلمات نبی ﷺ کے پاس دھرائے ۔ جب قَالَ لَا وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ۔ میں یہاں تک پہنچا۔ اے اللہ ! میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے تو میں نے کہا: اور اطرافه: ٦٣١١، ٦٣١٣، 6315، 7488۔ تیرے رسول پر۔ آپ نے فرمایا: نہیں ( بلکہ یہ کہو ) اور تیرے اس نبی پر جو تو نے بھیجا ہے۔ تشريح : فَضْلُ مَنْ بَاتَ عَلَى الْوُضُوءِ: کتاب الوضو و امام بخاری نے کس خوبی سے ختم کیا ہے جو حدیث خاتمہ کتاب پر رکھی ہے، وہ طہارت و پاکیزگی کے اس انتہائی نقطہ نظر کو پیش کرتی ہے۔ جس کی تعلیم شارع اسلام نے اپنے پیروؤں کو دی اور اس پر خود بھی عمل کیا اور دوسروں کو بھی عمل کرنے کی ہدایت فرمائی۔ رات کو سوتے وقت اسی طرح وضو کر کے سوؤ ، جس طرح نماز کے لئے وضو کیا کرتے ہو اور سوتے وقت دائیں کروٹ سود تا تمہارا دل ہر ایک بوجھ سے آزاد رہے اور تمہاری نیند تمہارے لئے با برکت ہو اور یہ دعا مانگو۔ اَللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ۔ یعنی اپنے خیالات کو ہر ایک قسم کی دوئی سے کلیہ پاک وصاف کر کے محض ایک تصور یگانہ اور وحدت تامہ میں از خود رفتہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے آغوش میں آرام و اطمینان کی واطمینان کی میٹھی نیند سود نہ غیر اللہ سے ام سے امید ہو، نہ اس کا ڈ اس کا ڈر۔ وہی ذات تمہارا آسرا ہو۔ وہی تمہارا ماوی اور مَلْجَاء ۔ کیا ہی پاک تعلیم ہے! آپ نے نفس بشری کی گہرائیوں کے متعلق کامل معرفت و بصیرت رکھتے ہوئے اس کے خیالات و اعتقادات کو ہر ایک شرک کی ناپاکی سے پورے طور پر پاک کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔