صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 328
صحيح البخاری جلد ا ۳۲۸ ۴- كتاب الوضوء بَاب ۷۳ : السِّوَاكُ مسواک کرنا صلى الله وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اور حضرت ابن عباس نے کہا: میں نبی ﷺ کے ہاں اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنَّ۔ رات ٹھہرا اور آپ نے مسواک کی ۔ ٢٤٤: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ :۲۴۴: ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، کہا: حماد بن حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ زید نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے غیلان بن جریر سے، الله جَرِيرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ أَتَيْتُ غيلان نے ابو بردہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ روایت کی ۔ کہا: میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو میں نے يَسْتَنُّ بِسِوَاكَ بِيَدِهِ يَقُولُ أَنْ أَعْ آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے مسواک کر رہے ہیں۔ مسواک آپ کے منہ میں تھی۔ آپ اُعُ اعْ وَالسِّوَاكُ فِي فِيْهِ كَأَنَّهُ يَتَهَوَّعُ ۔ کی آواز نکال رہے تھے، جیسے آپؐ قے کرنے پر آمادہ ہیں۔ ٢٤٥ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ حَدَّثَنَا ۲۴۵ ہم سے (ابو شیبہ کے بیٹے ) عثمان نے بیان کیا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ کہا: جریر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے منصور سے، حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ منصور نے ابو وائل سے ، ابو وائل نے حضرت حذیفہ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ جب رات بالسواك۔ اطرافه: ٨٨٩، ١١٣٦ کو اُٹھتے تو اپنے منہ کو منہ کو مسواک سے اوپر نیچے مل کر صاف کرتے۔ وہ تشریح : السواك: اس باب کا علق بھی اس مضمون کے ساتھ وان ہے اور یہ کہ بی صل اللہ علی ولی کا ام عمل درآمد یہ تھا کہ حتی الوسع میل کو جو پاکیزگی اور صفائی کے خلاف ہے، دور فرمایا کرتے تھے۔ خواہ وہ جمہ جسم کے باہر کے حصے پر ہو یا منہ کے اندر دانتوں پر ہو یا کپڑے پر ہو۔ نماز کی حالت میں کپڑے میں تھو کنا؛ ایک استثنائی حالت میں ہوا۔ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ وہ طاہر ہے یا اس کو دور نہ کیا جائے۔ بعض فقہاء فقہی مسائل کے استنباط میں جادہ استقامت سے ادھر ادھر نکل گئے ہیں اور اس سے عملی مشکلات اتنی بڑھ گئیں کہ جو ضروری واہم باتیں تھیں وہ نظر انداز