صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 271 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 271

صحيح البخاری جلد ا ۲۷۱ ۴- كتاب الوضوء صلى کہنا بھی جائز نہیں۔ اس قسم کے مسائل ایسے ہیں جن کا تعلق فطرت کے فتوئی کے ساتھ ہے۔ شارع اسلام ﷺ کسی کے سامنے ننگا ہونا مکروہ سمجھتے تھے۔ غرض ان اختلافی مسائل کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو عمل صحیح طور پر ثابت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے سونے کے بعد اُٹھ کر (بے وضو ہونے کی حالت میں ) قرآن مجید کی آیتیں پڑھی ہیں ۔ یہ حدیث مختصراً نمبر ۱۱۷، ۱۳۸ میں آچکی ہے۔ وہاں ان دونوں روایتوں میں یہ الفاظ ہیں: فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ اور فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ۔ یعنی مجھے بائیں طرف سے پھیر کر دائیں طرف کر دیا۔ یہاں یہ الفاظ ہیں: أَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا ۔ شفقت سے کان مروڑا ہے اور پھر ان کو دائیں طرف کر دیا۔ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ : وِسَادَةُ کے معنی تو شک (یعنی گدا)۔ عرب لوگ اب تک بھی زمین پر سوتے ہیں اور ان کے تو شک بڑے بڑے گدیلے ہوتے ہیں۔ بعض اتنے بڑے کہ زمین سے تقریبا آد ے تقریبا آدھ فٹ اوپر ہوتے ہیں۔ غریب گھروں ریب گھروں میں بسا اوقات ات ایک ہی لمبا چوڑا تو چوڑا تو شک ہوتا ہے۔ جس پر تین چار اشخاص لمبان اور چوڑان میں سمٹ کر سو جاتے ہیں۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی حال آج سے چودہ سو (۱۴۰۰) برس پہلے بھی تھا۔ حضرت ابن عباس بچے تھے۔ تو شک کی چوڑان میں ان کی خالہ کے پاؤں کی طرف ان کو سلا دیا گیا۔ چار پائیوں پر سونے والے بھی کبھی ایسا کر لیتے ہیں۔ باب ۳۷ : مَنْ لَّمْ يَتَوَضَّأْ إِلَّا مِنَ الْغَشْيِ الْمُثْقِلِ بغیر سخت بے ہوشی کے جو (دوبارہ) وضو نہ کرے ١٨٤ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ :۱۸۴: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا : مالک نے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنِ مجھے بتلایا ۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ اپنی بیوی فاطمہ سے، انہوں نے اپنی دادی حضرت اسماء أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ بنت حضرت ابو بکر سے روایت کی ۔ وہ بہتی تھیں : میں نبی کی۔ کہتی : کی بیوی حضرت عائشہ کے پاس ؛ جب سورج گرہن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ ہوا؟ آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ لوگ کھڑے نماز پڑھ رہے خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ ہیں اور وہ؟ اور وہ بھی کھڑی نماز پڑھ رہی ہیں۔ میں نے پوچھا: يُصَلُّوْنَ وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَقُلْتُ ان لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ تو اس پر انہوں نے اپنے ہاتھ مَا لِلنَّاسِ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا نَحْوَ السَّمَاءِ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا۔ میں نے