صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 270 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 270

صحيح البخاري - جلد ا ٢٧٠ ۴- كتاب الوضوء مُّعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ حضرت ابن عباس ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ کہتے تھے: میں بھی اُٹھا اور اسی طرح کیا جس طرح فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ ذَهَبْتُ آپ نے کیا ۔ پھر جا کر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى آپ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا داہنا عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا کان پکڑ کر مروڑ نے لگے۔ آپ نے دو رکعتیں فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكَعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ پڑھیں۔ پھر دوره رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رَكْعَتَيْنَ ثُمَّ أَوْ تَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى أَتَاهُ پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں ۔ پھر وتر پڑھا۔ اس رور رور رکعتیں کے بعد لیٹ گئے ۔ جب مؤذن آپ کے پاس آیا۔ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ تب آپ اُٹھے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھیں۔ پھر باہر ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ۔ جا کر آپ نے صبح کی نماز پڑھی۔ اطرافه: ۱۱۷ ، ۱۳۸ ، 697، 698، ٦99، ٧٢٦، ٧٢٨، 8٥٩، 1198، 4569، ٤٥٧٠، ٤٥٧١ ، ٤٥٧٢ ، ٥٩١٩، ٦٢١٥، ٦٢١٦، ٧٤٥٢۔ تشريح : قِرَأَةُ الْقُرْآنِ بَعْدَ الْحَدَثِ وَغَيْرُ : اس میں لفظ وَغَيْرُ سے رد کر الہی کرتا جائے سلام دینا، دوسری دعائیں کرنا اور وعظ و نصیحت کرنا ہے۔ قرآن مجید کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (سورة الواقعة : (۸۰) یعنی اس کو وہی چھوتے ہیں جو پاک وصاف کئے گئے ہیں۔ اس کا مفہوم تو بالکل ظاہر ہے۔ یعنی وہی لوگ اس کے معانی و حقائق کا ادراک کر سکتے ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے گناہ کی آلائش سے پاک کر دیا ہے اور جنہیں روحانی پاکیزگی اور صفائی قلب عنایت ہوئی ہے۔ مگر بعض علماء نے اس آیت کی بناء پر ظاہری ادب کو بھی ملحوظ رکھنے کے لئے یہاں تک زور دیا ہے کہ بے وضو قر آن پڑھنا بھی جائز نہیں۔ یہ غلو ہے۔ جب انسان ظاہر پرستی میں حد سے نکل جاتا ہے تو بالطبع روحانی امر میں وہ بے توجہ اور غافل ہو جاتا ہے۔ ظاہری مشکلات میں پڑ کر نہ صرف اپنے آپ کو روحانی کمال حاصل کرنے سے محروم کر لیتا ہے۔ بلکہ دوسروں کو بھی روک دیتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انہی چھوٹے چھوٹے مسائل کی وجہ سے لوگ عام طور پر نماز ترک کر دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت چھوڑ دیتے ہیں۔ ذکر الہی زبان پر لانا گناہ سمجھتے ہیں۔ امام بخاری نے اس باب میں سنت نبوی پیش کر کے ان ضرر رساں مسائل کا سد باب کیا ہے۔ لَا بَأْسَ بِالْقِرَاءَةِ فِي الْحَمَّامِ : اس باب میں منصور بن معتمر کا جوحوالہ پیش کیا ہے کہ ابراہیم مخفی حمام میں قرآت جائز سمجھتے تھے تو غالباً حدث اکبر کی طرف اشارہ کیا ہے اور نخعی کا قول جو حماد سے نقل کیا ہے کہ تہ بند نہ ہوں تو سلام