صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 250
صحيح البخاري - جلد ) ۲۵۰ ۴- كتاب الوضوء کے علاوہ ہے۔ نیز وضو کے ادنیٰ سے ادنی مبادی میں بھی معنوی پاکیزگی مد نظر رکھی گئی ہے۔ جیسے استنجا میں ڈھیلے پتھر وغیرہ اشیاء باء استعمال کرنے والے کے لئے طاق عدد رکھنے رکھنے کا کا حکم حکم دیا دیا تا تا اسلام اسلام کا کا بڑا بڑ مقصد جو توحید باری تعالی ہے وہ ادنیٰ سے ادنی عمل میں بھی نظر سے اوجھل نہ ہو۔ شرک جیسا کہ ظلم عظیم اور تمام گناہوں کا منبع قرار دیا گیا ہے، اسی طرح توحید کا اعتقاد ؛ اسلام میں تمام پاکیز گیوں اور نیکیوں کا سر چشمہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل اپنے محل پر آئے گی۔ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ : حدیث نمبر ۱۶۲ میں یہ لفظ جو ہیں : لا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ اس ارشاد میں بھی پاکیزگی کی ہی تعلیم ہے اور مسلمان کو محتاط ہونے کے لئے فرمایا ہے۔ باب ۲۷ : غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ وَلَا يَمْسَحُ عَلَى الْقَدَمَيْنِ دونوں پاؤں کو دھونا اور پیروں پر مسح نہ کرے ١٦٣ : حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ١٦٣: ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا: ابوعوانہ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو بشر سے، ابوبشر نے مَاهَكَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ يوسف بن مالک سے، یوسف نے حضرت عبداللہ بن زم صلى الله تَخَلَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عمرہؓ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: نبی علیہ ہم سے ایک سفر میں پیچھے رہ گئے۔ پھر ہم سے آملے اور عَنَّا فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ حالت یہ تھی کہ ہم عصر کی نماز میں اتنی دیر کر چکے تھے أَرْهَقْنَا الْعَصْرَ فَجَعَلْنَا نَتَوَضَّأُ وَنَمْسَحُ که دوسری نماز کا وقت بھی قریب آ گیا تھا۔ تو لگے ہم عَلَى أَرْجُلِنَا فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ وَيْلٌ وضو کرنے اور اپنے پیروں پر مسح کرنے ۔ اس پر لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا۔ آپ نے بلند آواز سے پکار کر فرمایا: ہلاک ہوگئیں اطرافه: ٦٠، ٩٦ ۔ ایڑیاں آگ سے۔ دو دفعہ یا تین دفعہ فرمایا۔ تشریح : وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ : اس باب کے تحت حدیث نمبر ۱۲۳ میں بھی یہی بات ذہن نشین کرائی ہے کہ اعضاء کو صرف پانی سے بھگونے کا نام وضو نہیں۔ اگر اعضاء کو اس طرح بھگو دینے سے وضو ہو جاتا تو آپ یہ نہ فرماتے: وَيْلٌ لِلاعْقَابِ مِنَ النَّارِ ۔ حالانکہ اس وقت نماز کا وقت گزر رہا تھا۔ ایسے وقت میں بھی آپ نے اس امر میں چشم پوشی سے کام نہیں لیا۔ بلکہ نہایت شدید الفاظ میں صحابہ کو آگاہ کیا کہ کامل طہارت و پاکیزگی ہی ہے جو انسان کو آگ سے نجات دے گی ۔ اس امر میں ذرہ سی کوتاہی اور غفلت بھی ہلاک کر دینے والی ہے۔ آپ میں پاکیزگی کے لئے یہ احساس اپنے انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ اس میں ان احمق لوگوں کے لئے سبق ہے، جو کسی استثنائی حالت کو دیکھ کر آپ کے وضو پر اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں۔