صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 243 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 243

صحيح البخاري - جلد ا ۲۴۳ ۴- كتاب الوضوء أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ سے، کیا نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے صلى الله علوم سے أَبِيْهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی ﷺ قَالَ إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَأْخُذَنَّ ذَكَرَهُ روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی بِيَمِينِهِ وَلَا يَسْتَنْجِي بِيَمِيْنِهِ وَلَا يَتَنَفَّسٌ پیشاب کرے تو اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرمگاہ نہ پکڑے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ فِي الْإِنَاءِ۔ اطرافه: ١٥٣، ٠٥٦٣٠ برتن میں سانس لے۔ باب ۲۰ : الْإِسْتِنْجَاءُ بِالْحِجَارَةِ ڈھیلوں سے استنجا کرنا ١٥٥ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۱۵۵ : ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا، کہا: عمرو بن الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ كي بن سعيد بن عمر ویکی نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے دادا ہ سے روایت ، اُن کے دادا نے حضرت ابو ہریرہ سے سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْمَكِّيُّ عَنْ جَدِهِ عَنْ اسے، اُن ۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ وَكَانَ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اتَّبَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے پیچھے ہولیا اور آپ قضائے حاجت کے لئے نکلے اور آپ مڑ کر ادھر ادھر نہیں دیکھتے تھے۔ میں آپ کے قریب ہوا تو آپ نے فرمایا: لَا يَلْتَفِتُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ ابْغِنِي میرے لئے ڈھیلے تلاش کرو تا کہ میں ان سے استنجا کروں أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضُ بِهَا أَوْ نَحْوَهُ وَلَا یا اس قسم کا فقرہ (فرمایا) اور نہ ہڈی اور ن لید میرے پاس تَأْتِنِي بِعَظْمٍ وَلَا رَوْثِ فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ لانا ۔ چنانچہ میں اپنے کپڑے کے کونے میں کچھ پھر آپ بِطَرَفِ ثِيَابِي فَوَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ کے پاس لے آیا اور انہیں آپ کے پاس رکھ دیا اور پھر وَأَعْرَضْتُ عَنْهُ فَلَمَّا قَضَى أَتْبَعَهُ بِهِنَّ۔ میں آپ سے ایک طرف ہو گیا۔ جب آپ فارغ طرفه: ٣٨٦٠ ہوئے تو آپ انہیں استعمال میں لائے۔ تشريح: الإِسْتِجَاء بِالْحِجَارَةِ : جن لوگں نے استامیں پانی استعال کرنے پر زور دیا ہے انہوں نے بعض حالات کی مجبوری مد نظر نہیں رکھی اور بہتوں کو نماز جیسے ضروری فرض کو ادا کرنے سے روک دیا ہے۔