صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 241
صحيح البخاري - جلد ا ۲۴۴۱ باب ١٦ : مَنْ حُمِلَ مَعَهُ الْمَاءُ لِطُهُوْرِهِ جس کے ساتھ طہارت کے لئے پانی اُٹھا کر لے جایا جائے لم - كتاب الوضوء وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَلَيْسَ فِيكُمْ اور حضرت ابو درداء نے کہا: کیا تم میں وہ نہیں جو اپنے صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالطَّهُوْرِ وَالْوِسَادِ۔ ساتھ آنحضرت ﷺ کی جوتیاں اور وضو کا پانی اور تکیہ رکھا کرتا تھا۔ ١٥١ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۱۵۱ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مُعَادٍ هُوَ شعبہ نے ابو معاذ یعنی عطاء بن ابی میمونہ سے روایت عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ قَالَ سَمِعْتُ کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: میں نے أَنَسًا يَقُولُ كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى الله حضرت انس کو یہ کہتے ہوئے سنا سنا کہ جب نبی علی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ تَبِعْتُهُ أَنَا صلى الله قضائے حاجت کے لئے نکلتے تو میں اور (ہمارے خاندان کا ایک لڑکا آپ کے پیچھے ہو لیتے اور وَغُلَامٌ مِّنَّا مَعَنَا إِدَاوَةٌ مِّنْ مَّاءٍ۔ ہمارے ساتھ پانی کی ایک چھاگل ہوتی ۔ اطرافه: ١٥٠، ١٥٢، ٢١٧، ٥٠٠ بَاب ۱۷ : حَمْلُ الْعَنَزَةِ مَعَ الْمَاءِ فِي الْاِسْتِنْجَاءِ استنجا کے وقت پانی کے ساتھ برچھی بھی اُٹھا کر لے جانا ١٥٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ۱۵۲ ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: محمد بن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا جعفر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: شعبہ نے شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ سَمِعَ ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللهِ روایت کی۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلَاءَ سنا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جب قضائے فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ إِدَاوَةً مِّنْ مَّاءٍ وَعَتَزَةً حاجت کے لئے جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کی يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ۔ تَابَعَهُ النَّضْرُ وَشَاذَانُ چھاگل اور پر بھی اٹھا کر لے لے جاتے۔ پانی سے آپ صلى الله استنجا کرتے ۔ نضر اور شاذان نے بھی شعبہ سے یہی عَنْ شُعْبَةَ الْعَنَزَةُ عَمَّا عَلَيْهِ زُجٌ۔ روایت کی ۔ عنزہ وہ لاٹھی ہوتی ہے جس پر پھل لگا ہو۔ اطرافه ۱۵۰، 151، ۲۱۷، ۵۰۰