صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 239 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 239

صحيح البخاري - جلد ا ۲۳۹ ۴ - كتاب الوضوء أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ نے محمد بن يحي بن حبان کی روایت ہم سے بیان کی کہ حَبَّانَ أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ ان کے چا واسع بن حبان نے انہیں بتلایا کہ حضرت أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ قَالَ لَقَدْ عبد اللہ بن عمرؓ نے ان ۔ ، ان سے بیان کیا۔ کہتے تھے کہ میں ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا ایک دن اپنے گھر کی چھت پر جو چڑھا تو میں نے فَرَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَاعِدًا عَلَى رسول اللہ ﷺ کو دو کچی (۲) اینٹوں اینٹوں پر پر بیٹھے دیکھا۔ لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ۔ (آپ) بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے تھے۔ اطرافه ١٤٥، ١٤٨، ٣١٠٢۔ صلى بعد بنائے گئے اور تشريح التبرز في البيوت: تمدنی حالت کی ترقی کےساتھ بعد میں گھروں میں بیت الخلاء پھر عورتوں کو نکلنے کی ضرورت نہ رہی۔ ورنہ پہلے وہ رات کے وقت باہر جایا کرتی تھیں۔ جیسے اب جیسے اب بھی اکثر دیہاتی زندگی میں یہی رواج ہے۔ ہندوستان میں عورتوں کے گھروں سے نکلنے کے متعلق جو تشدد ہمیں نظر آتا ہے وہ شریعت کے کسی حکم کے ماتحت نہیں۔ حدیث نمبر ۱۴۸ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی گھر کی چھت پر پاخانہ کا انتظام ہوا کرتا تھا۔ حدیث نمبر ۱۴۵ میں بھی واسع بن حبان کی روایت پہلے آچکی ہے۔ وہاں راوی عبداللہ بن یوسف ہیں جو امام مالک سے نقل کرتے ہیں اور یہاں ابراہیم بن منذر راوی ہیں جو انس بن عیاض سے نقل کرتے ہیں۔ اس لئے تھوڑا سا لفظی اختلاف ہے۔ مگر ہے۔ مگر مفہوم ایک ہی ہے۔ بَاب ١٥ : الْإِسْتِنْجَاءُ بِالْمَاءِ پانی سے استنجا کرنا ١٥٠ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ ۱۵۰ : ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي کیا ، کہا : شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو معاذ سے مُعَادٍ وَاسْمُهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ قَالَ روایت کی اور ابو معاذ کا نام عطاء بن ابی میمونہ ہے۔ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُوْلُ كَانَ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک کو یہ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ أَجِيءُ کہتے سنا کہ نبی ﷺ جب قضائے حاجت کے لئے أَنَا وَغُلَامٌ مَعَنَا إِدَاوَةٌ مِنْ مَّاءٍ يَعْنِي نکلتے تو میں اور ایک لڑکا آتے اور ہمارے ساتھ پانی کی يَسْتَنْجِيْ بِهِ۔ اطرافه: ١٥١، ١٥٢، ٢١٧، ٥٠٠ چھا گل ہوتی ۔ یعنی آپ اس (پانی) سے استنجا کرتے۔