صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 235 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 235

صحيح البخاري - جلد ) ۲۳۵ باب ۱۲ : مَنْ تَبَرَّزَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ جو دو (۲) اینٹوں پر بیٹھ کر پاخانہ کرے لم - كتاب الوضوء ١٤٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۱۴۵: ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے یحی بن سعید سے، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ کی نے محمد بن یحی بن حبان سے، انہوں نے اپنے عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ چا واسع بن حبان سے، واسع نے حضرت عبداللہ بن عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِنَّ نَاسًا يَقُوْلُوْنَ عمرؓ سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں إِذَا فَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ فَلَا تَسْتَقْبِل کہ جب تم قضائے حاجت کے لئے بیٹو تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرو اور نہ ہی بیت المقدس کی طرف۔ الْقِبْلَةَ وَلَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ صلى حضرت عبداللہ بن عمر کہتے تھے: میں ایک دن اپنے ابْنُ عُمَرَ لَقَدِ ارْتَقَيْتُ يَوْمًا عَلَى ظَهْرِ گھر کی چھت پر چڑھا تو رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ بَيْتٍ لَّنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ آپ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلا بَيْتَ المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے بیٹھے تھے۔ اور الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ وَقَالَ لَعَلَّكَ مِنَ انہوں نے کہا: شاید تم بھی ان لوگوں میں سے ہو جو الَّذِينَ يُصَلُّوْنَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ فَقُلْتُ نماز میں سجدہ کے وقت اپنا پیٹ رانوں سے لگا دیتے لَا أَدْرِي وَاللَّهِ ، قَالَ مَالِكٌ يَعْنِي الَّذِي ہیں ۔ اس پر میں نے کہا: بخدا ! میں نہیں جانتا۔ يُصَلِّي وَلَا يَرْتَفِعُ عَنِ الْأَرْضِ يَسْجُدُ مالک نے کہا: (اس سے حضرت ابن عمر کی ) مراد وہ شخص ہے، جو نماز پڑھتا ہے اور زمین سے اونچا نہیں وَهُوَ لَاصِقٌ بِالْأَرْضِ۔ اطرافه ١٤٨، 149، ۳۱۰۲۔ ہوتا۔ سجدہ کرتا ہے اور زمین سے لگا رہتا ہے۔ تشریح : مَنْ تَبَرَّزَ عَلَى لَبِنتَيْنِ : اس باب میں قضائے حاجت کی ایسی صورت بیان کی ہے جس میں انسان اپنے آپ کو نجاست سے بچا سکتا ہے اور یہ روایت لا کر بتلایا گیا ہے کہ آپ جو بیت المقدس کی طرف منہ اور قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھتے تھے تو آپ اینٹوں پر تھے۔ یعنی عمارت میں تھے۔ اس حدیث سے محدثین یہ استدلال کرتے ہیں کہ عمارت کے اندر قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا جائز ہے۔ کیونکہ اس وقت