صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 233 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 233

صحيح البخاري - جلد ا ۲۳۳ ۴ - كتاب الوضوء ں ہوتے۔ اور دَخَلَ وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ سے یہا یہ الفاظ بیان کیے : جب آپ داخل ہے الْعَزِيزِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ۔ طرفه: ٦٣٢٢ سعید بن زید نے کہا: عبدالعزیز نے ہم سے یہ الفاظ بیان کئے : جب آپ داخل ہونے کا ارادہ کرتے۔ تشریح : مَا يَقُولُ عِنْدَ الْخَلَاءِ: اس باب میں جو دولفظ العبث وَالْخَبَائِت دعا میں وارد ہوئے ہیں۔ ۔ ان میں پہلے لفظ سے مراد ہر ایک ظاہری میل کچیل اور گندگی ہے اور خَبَائِت جو خَبِيثَةٌ کی جمع ہے۔ اس سے مراد ہر ایک گندی بات ، خواہ وہ دل کے خیالات سے تعلق رکھتی ہو یا اعمال سے یا زبان سے۔ نیز خبائث سے مراد ارواح خبیثہ بھی ہیں، جو گندی جگہوں میں عموماً جراثیم کی شکل میں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ خُبث جو خبیث کی جمع ہے اس سے مراد گندہ آدمی بھی ہو سکتا ہے اور گندی بات بھی ۔ باب کے عنوان میں الفاظ عِنْدَ الْخَلَاءِ مندرجہ روایت کے مفہوم کو واضح کرتے ہیں کہ قضاء حاجت کی حالت میں یہ دعا نہ مانگی جائے بلکہ اس سے پہلے جاتے وقت جیسا کہ اس روایت کی دوسری سندوں سے ظاہر ہے۔ یہی جمہور کا مذہب ہے۔ فقہاء نے یہ تعین کی ہے کہ بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت اور باہر جنگل میں قضائے حاجت کے لئے بیٹھتے وقت دعا مانگے اور جو بھول جائے تو دل میں دعا کر لے۔ امام مالک کے نزدیک مطلق جائز ہے کہ قضائے حاجت کی حالت میں دعا کرے یا اس سے پہلے ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۲۱) باب ۱۰: وَضْعُ الْمَاءِ عِنْدَ الْخَلَاءِ قضائے حاجت کے وقت پانی رکھنا ١٤٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۱۴۳ : ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہاشم قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ بن قاسم نے ہم سے بیان کیا۔ کہا: ورقہ نے ہمیں حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بتلایا ۔ انہوں نے عبید اللہ بن ابی یزید سے۔ عبید اللہ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ نبی علی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْخَلَاءَ فَوَضَعْتُ لَهُ بيت الخلاء میں گئے تو میں نے آپؐ کے لئے وضو وَضُوْءًا قَالَ مَنْ وَضَعَ هَذَا فَأَخْبِرَ کا پانی رکھا۔ آپ نے پوچھا: یہ کس نے رکھا ہے؟ تو آپ کو بتلایا گیا۔ اس پر آپ نے دعا کی: اے اللہ ! فَقَالَ اللَّهُمَّ فَقِهْهُ فِي الدِّيْنِ۔ اسے دین کی سمجھ دیجیو۔ اطرافه ٧٥، ٣٧٥٦، ٧٢٧٠۔