صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 232 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 232

صحيح البخاري - جلد ا ۲۳۲ - كتاب الوضوء ضروری نہ ہوگا۔بعض لوگ اس وقت اللہ کا نام لینا مکر وہ سمجھتے ہیں۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۱۸) امام بخاری نے کتاب الایمان میں ہر عمل کے لئے نیت نہایت ضروری قرار دی ہے۔یہاں تک کہ ایمان میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔اسی طرح وضو میں بھی اور بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنے میں بھی۔(دیکھیں حدیث ۴ ۵ تا ۵۶ ) یہاں بھی تسمیہ یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کی ہدایت کرنے سے یہی مراد ہے کہ مسلمان کا ہر عمل اللہ کے نام کے ساتھ شروع ہونا چاہیے۔امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے نیت وضو کے لئے ضروری شرط قرار دی ہے۔شارحین نے امام بخاری کی قائم کردہ ترتیب کے متعلق چہ مگوئیاں کی ہیں اور بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ یہاں ان ابواب میں قطعاً کوئی ترتیب ملحوظ نہیں رکھی۔حالانکہ ترتیب نہایت واضح ہے۔وضو اور طہارت کے مسائل حالات حدث سے شروع کئے ہیں۔جس کا تعلق ایک طرف جماع سے ہے اور دوسری طرف بیت الخلاء سے ہے اور ان دونوں کے متعلق اسلامی آداب کا ذکر کیا اور بتلایا ہے کہ اسلام کیا چاہتا ہے۔ایسی اولاد جو شیطان کے ہر گندے امر سے پاک ہو اور ایسے لوگ جو ہر قسم کے گند اور گندی باتوں سے پاک ہوں، اس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماع کے وقت بھی دعا سکھلائی ہے اور بیت الخلاء میں جاتے وقت بھی دعا سکھلائی، جو سراسر طہارت اور پاکیزگی پر دلالت کرتی ہے اور یہ دعا ئیں شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے نصب العین کو کھلے الفاظ میں واضح کر کے دکھلاتی ہیں۔پس کسی خاص حالت میں ایک ایک بار اعضاء دھونے کو حجت قرار دے لینا؛ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقتضائے تعلیم کے بالکل برخلاف ہے۔مذکورہ بالا ابواب میں یہ ایک نہایت واضح تعلق تھا، جو شارحین کی نظر سے مخفی رہا۔چنانچہ مابعد باب کا بھی یہی مضمون ہے۔بَابِ ۹ : مَا يَقُولُ عِنْدَ الْخَلَاءِ قضائے حاجت کے لئے جانے کے وقت کیا کہے ١٤٢: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۴۲ ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبِ قَالَ ہمیں بتلایا۔انہوں نے عبد العزیز بن صہیب سے سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى روایت کی۔کہا کہ میں نے حضرت انس سے سنا۔وہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ قَالَ کہتے تھے کہ نبی ﷺ جب بیت الخلاء جاتے تو اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْحُبْثِ فرماتے : اے اللہ! میں گندگی اور گندی باتوں سے وَالْخَبَائِثِ۔تَابَعَهُ ابْنُ عَرْعَرَةَ عَنْ تیری پناہ لیتا ہوں۔ابن عرعرہ نے بھی شعبہ سے یہی شُعْبَةَ وَقَالَ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ إِذَا أَتَى روایت کی اور نخند رنے شعبہ سے یہ الفاظ بیان کئے : الْخَلَاءَ وَقَالَ مُوسَى عَنْ حَمَّادٍ إِذَا جب آپ بیت الخلاء میں آتے۔اور موسیٰ نے حماد