صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 231 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 231

صحيح البخاري - جلد ا تشریح: ۲۳۱ - كتاب الوضوء غَسْلُ الْوَجُهِ۔۔۔۔مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ میں جو وضو کا حکم ہے، اس کے متعلق علماء اس بات پر متفق ہیں کہ ایک بار دھونے پر وضو کا اطلاق ہو سکتا ہے۔کم از کم ایک بار دھونا لازمی ہے اور تین بار دھونا سنت نبوی ہے۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس بحث کے ضمن میں یہ فرق دکھلایا ہے کہ اصل غرض پاکیزگی ہے۔قلت و کثرت تو حالات کے ماتحت ہے۔حضرت ابن عباس نے چونکہ لوگوں کو طریق وضو کا مسئلہ بتلانا تھا، اس لئے انہوں نے ایک ایک دفعہ اعضاء کو دھویا۔حضرت ابن عباس کا یہ کہنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے دیکھا، اس سے یہ مراد نہیں کہ آپ ہمیشہ ایسا کرتے تھے۔اس باب کو سابقہ باب ( نمبر ۶) کے بعد لانے سے امام موصوف یہی سمجھانا چاہتے ہیں کہ وضو میں اصل مقصود الإنقاء “ یعنی صفائی ہے۔البتہ حالات کے ماتحت ایک بار پر بھی اکتفاء کیا جا سکتا ہے۔بَاب : التَسْمِيَةُ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَ عِنْدَ الْوِقَاعِ ہر حالت میں بسم اللہ پڑھنا اور جماع کے وقت بھی ١٤١: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۱۴۱ ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: جریر نے قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ ہمیں بتلایا۔انہوں نے منصور سے، منصور نے سالم بن سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ كُرَيْبِ عَنِ ابی جعد سے، سالم نے گریب سے، گریب نے حضرت ابْنِ عَبَّاسٍ يَبْلُغُ * النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ ابن عباس سے روایت کی۔اور حضرت ابن عباس (اس روایت کو ) نبی ﷺ تک پہنچاتے ہیں۔آپ نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے اور یہ أَتَى أَهْلَهُ قَالَ بِسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا کہے کہ (میں) اللہ کے نام کے ساتھ (شروع کرتا ہوں ) الشَّيْطَانَ وَجَنّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا اے میرے اللہ! ہمیں شیطان سے بچائے رکھیو اور شیطان کو اس (بچہ) سے دُور رکھیو جو تو ہمیں دے۔تو ان فَقُضِيَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ لَّمْ يَضُرُّهُ۔کے باہمی تعلق سے ایسے بچے کے پیدا ہونے کا فیصلہ کیا جاوے گا کہ جس کو شیطان ضرر نہ دے سکے گا۔اطرافه: ۳۲۷۱، ۳۲۸۳، ٥١٦٥، ٦٣٨٨، ٧٣٩٦۔تشریح: التَّسْمِيَّةُ عَلَى كُلِّ حَالٍ : وضو کا مفہوم معین کرنے کے بعد امام بخاری نے ایک نیا باب قائم کیا ہے جس میں یہ بتلایا ہے کہ وضو کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لینا ضروری ہے۔عِندَ الْوِقاع کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ جب جماع کے وقت ضروری ہے جو حدث کی سب سے بڑی حالت ہے تو وضو کے وقت کیوں فتح الباری مطبوعہ بولاق میں يَبْلُعُ بِهِ کے الفاظ ہیں۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۳۱۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔