صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 215
صحيح البخاري - جلد ا ۲۱۵ ٣- كتاب العلم باب ٥١ : مَنِ اسْتَحْيَا فَأَمَرَ غَيْرَهُ بِالسُّؤَالِ جو شخص خود شرم کرے اور دوسرے سے پوچھنے کے لئے کہے ۱۳۲ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۳۲ : ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: عبداللہ بن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ داؤد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش مُنْذِرِ الثَّوْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ نے مندر ثوری سے، انہوں نے محمد بن حنفیہ سے، عَنْ عَلِي قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَاءً محمد نے حضرت علی ( بن ابی طالب ) سے روایت کی ۔ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی انہوں نے کہا: میں ایسا آدمی تھا جس کی ندی بہت نکلتی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ فِيْهِ تھی۔ میں نے مقداد - الْوُضُوءُ۔ اطرافه: ١٧٨، ٢٦٩۔ صلى الله مقداد سے کہا کہ وہ نبی ﷺ سے مسئلہ پوچھیں ۔ تو انہوں نے آپ سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا: اس میں وضو ہی کرنا ہوگا۔ تشريح : مَنِ اسْتَحْيَا فَأَمَرَ غَيْرَهُ بِالسُّؤال : اس باب میں چالیسواں ادب سکھایا ہے کہ اگرکوئی شخص بوجہ غلبہ شرم و حیاء خود نہیں پو و حیاء خود نہیں پوچھ سکتا تو وہ کسی دوسرے شخص کے ذریعہ سے دریافت کرلے ۔ عورتیں اپنے خاوندوں کے ذریعہ سے دریافت کر سکتیں ہیں۔ مذاء : وہ جس کی ندی کثرت سے نکلتی ہے۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ مذی ایک رطوبت ہے جو منی کی نسبت رقیق ہوتی ہے۔ حضرت علیؓ آپ کے داماد تھے، غالبا وہ اس وجہ سے شرماتے تھے۔ غرض صحابہ کرام عورتیں اور مرد مسائل دینیات تھے۔ دریافت کرنے اور سمجھنے میں نہیں ہچکچاتے تھے اور اس لئے ان کی معلومات میں وضاحت اور تعیین ہوتی۔ تعبر باب ٥٢ : ذِكْرُ الْعِلْمِ وَالْفُتْيَا فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں علم اور فتوی پوچھنے پوچھانے کے متعلق ذکر ۱۳۳ : حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ ۱۳۳: مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: لیٹ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عبد الله بن عمر بن الخطاب کے ( آزاد کردہ) غلام نافع الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ نے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر