صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 214
حیح ری جلد ا ۲۱۴ ٣- كتاب العلم تشریح: الْحَيَاءُ فِی الْعِلْمِ حیا جو اس وجہ سے ایمان کا جزء قرار دی گئی تھی کہ وہ انسان کو بدیوں سے روکتی ہے، اس باب میں اس لئے معیوب قرار دی گئی ہے کہ وہ بعض وقت تحصیل علم میں مانع ہوتی ہے۔خاص کر عورتوں کے لئے کہ وہ شریعت کے ان امور کے معلوم کرنے میں بہت شرماتی ہیں، جن کا تعلق جنس اناث کے ساتھ خصوصیت سے ہے۔مدینہ کی عورتیں بوجہ تعلیم یافتہ قوموں سے تعلقات رکھنے کے آزاد طبع واقع ہوئی تھیں۔اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی تعریف کی ہے۔مسلم نے ان کا یہ قول ابراہیم بن مہاجر سے نقل کیا ہے، جو یوں شروع ہوتا ہے: إِنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ الأَنْصَارِى سَأَلَتِ النَّبِيَّ الله عَن غُسُلِ الْمَحِيضِ۔۔۔(مسلم، کتاب الحيض، باب استحباب استعمال المغتسلة من الحيض) یہاں جس عورت کا ذکر ہے وہ حضرت انس بن مالک کی والدہ حضرت ام سلیم بنت ملحان ہیں۔إِنَّ اللهَ لَا يَسْتَحْيِي عَنِ الْحَقِّ : الله حق بات کے بیان کرنے سے نہیں شر ما تا۔یہاں شرمانا مجازاً استعمال کیا ہے۔مراد رُکنا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عموماً ایسے سوالوں کے جواب اشارہ و کنایہ سے دیا کرتے تھے۔جیسا کہ یہاں بھی اشارہ سے دیا ہے۔پانی کا لفظ جو آپ نے اختیار کیا تو وہ اس لئے کہ بعض وقت احتلام میں کچھ نہیں نکلتا تو ایسی حالت میں نہانا ضروری نہیں۔حضرت اُم سلمہ جواب کا مفہوم سمجھ کر کچھ شرما گئیں اور چہرہ ڈھانپ لیا۔تَعْنِی وَجُهَهَا یہ حضرت عروہ بن زبیر کا قول ہے۔لیکن دوبارہ جو پوچھا تو اس لئے کہ انہیں تعجب ہوا کہ عورتوں کو بھی ایسا احتلام ہوتا ہے جس میں پانی نکلتا ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس کا جواب دیا ہے، وہ مشاہدہ پر مبنی ہے اور جواب میں بوجہ اپنے طبعی حیا و شرم کے ذرہ انقباض کا اظہار کیا۔تَرِبَتْ يَمِينُكِ : یہ الفاظ اپنے ظاہری معنوں میں نہیں بلکہ ان سے مراد اس اضطراب کا اظہار ہے جو بعض وقت انسان ایسے موقع پر محسوس کرتا ہے اور یہ ہلکی ی تو شیخ کا بھی رنگ رکھتے ہیں۔دعا یا بددعا کے معنوں میں یہ فقرہ استعمال نہیں ہوتا۔البتہ تحریص و ترغیب کے موقع پر بھی استعمال ہوتا ہے۔(اقرب الموارد زیر لفظ ترب) امام بخاری نے باب مذکور کے لئے ایسی حدیث انتخاب کی ہے جو نہایت خوبی سے بتلاتی ہے کہ کہاں تک حیاء کرنا جائز ہے۔حیا کی حد کے اندر رہتے ہوئے بھی انسان اپنے مافی الضمیر کو ایسے پیرا یہ میں ادا کر سکتا ہے جو مانع حیا نہیں۔یہاں ہمیں اُنتالیسواں ادب سکھلایا گیا ہے۔حدیث نمبر ۱۳۱ لاکر یہ بتلایا ہے کہ بعض وقت انسان کچی بات کے اظہار سے بھی شرماتا ہے، جس کا تعلق در حقیقت کسی ایسے سبب سے نہیں ہوتا جو شرم کا تقاضا کرے۔یہ حدیث پہلے بھی آچکی ہے مگر یہاں بوجہ باب کی مناسبت کے تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔حضرت عمر نے اپنے بیٹے کی اس شرم کو نا پسند کیا۔