صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 209
صحيح البخاری جلد ا ۲۰۹ ٣- كتاب العلم بِكُفْرٍ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ فَجَعَلْتُ لَهَا ابن زبیر نے کہا: یعنی کفر سے۔ تو میں کعبہ کو توڑ ڈالتا بَابَيْنِ بَابٌ يَدْخُلُ النَّاسُ وَبَابٌ اور اس کے دو دروازے رکھتا۔ ایک دروازہ (جس ) سے لوگ داخل ہوتے اور ایک دروازہ (جس) سے يَخْرُجُوْنَ فَفَعَلَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ۔ وہ نکلتے ۔ چنانچہ حضرت ابن زبیر نے ایسا کر دیا۔ اطرافه ١٥٨٣، ١٥٨٤، ١٥٨٥، ١٥٨٦ ، ٣٣٦٨، ٤٤٨٤ ، ٧٢٤٣۔ تشريح مَنْ تَرَكَ بَعْضَ الْإِخْتِيَارِ أَنْ يَقْصُرَ فَهُمُ بَعْضِ النَّاسِ : کسی شخص کے ابتلاء کی جہ سے کوئی اچھی بات چھوڑ دینا یہ عین دانش مندی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف مالا بطاق کے وجہ سے سخت مخالف تھے اور احکام دین کے اجراء میں سہولت مد نظر رکھتے ۔ بیت اللہ کا وسیع کرنا اور اس میں دو دروازے رکھنا ، یہ ایسا ضروری امر نہ تھا ، جس کے نہ کرنے سے دین میں نقص لازم آتا ہو۔ لیکن آپ نے مصلحت وقت کو مد نظر وقت کو مد نظر رکھا۔ آج ھا۔ آج کل کے علماء اس دانشمندانہ سیاست سے بالکل کورے ہیں۔ پاجامہ اگر ٹخنوں سے نیچے جائے تو کفر و زندقہ کے فتوی سے کم پر صبر نہیں کر سکتے ۔ جلد بازی و کوتاہ نظری ان کے سروں پر سوار رہتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پاک نمونہ سے امام بخاری نے ایسے لوگوں کو سینتیسواں ادب سکھلایا ہے۔ حدیث نمبر ۱۲۶ میں جو حضرت ابن زبیر کے کعبہ بنوانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے جب یزید کی بیعت سے انکار کر کے حضرت عبداللہ بن زبیر مکہ کو بھاگ گئے تھے اور وہاں جا کر اپنی خلافت کے متعلق اہل مکہ سے بیعت لی تھی ۔ اہل مدینہ بھی اہل مکہ کے ساتھ تھے اور ان کے باہمی مشورہ سے یہ انتخاب خلافت ہوا۔ کیونکہ یزید کی نامزدگی اصول شریعت اسلامیہ کے خلاف تھی۔ اس سے کچھ مدت پہلے بیت اللہ کو آگ سے نقصان پہنچ چکا تھا اس لیے حضرت عبداللہ بن زبیر نے اس کو گرا کر بنیاد ابراہیم پر بنایا۔ جس کو حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کے حکم سے گرا کر پھر اپنی سابقہ بنیاد پر کر دیا۔ کیونکہ عبد الملک نے حضرت ابن زبیر کی یہ روایت تسلیم نہیں کی تھی۔ جیسا کہ مسلم نے عبد الملک کے متعلق ایک روایت نقل کی ہے کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے اس نے کہا کہ حضرت ابن زبیر نے حضرت عائشہ پر افتراء کیا ہے جو انہوں نے کہا: لَجَعَلْتُهَا عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ فَإِنَّ قُرَيْشًا حِينَ بَنَتِ الْبَيْتَ اسْتَقْصَرَتْ۔ (مسلم۔ كتاب الحج باب نقض الكعبة وبنائها عبد الملك كا یہ قول سن کر حارث بن عبداللہ بن ربیعہ نے ان کو ٹو کا اور کہا کہ میں نے خود حضرت عائشہ ام المؤمنین سے یہ حدیث سنی ہے ۔ تب عبدالملک نے معذرت کرتے ہوئے کہا: اگر تعمیر سے پہلے میں یہ بات سنتا تو حضرت عبداللہ بن زبیر کی تعمیر کو برقرار رکھتا۔ اسود جنہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر کا حوالہ دیا ہے، یزید بن قیس نخعی کے بیٹے تھے۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا تھا مگر آپ کو دیکھا نہیں ۔ ۷۵ھ میں فوت ہوئے ۔ انہوں نے ۸۰ حج اور عمرہ الگ الگ کئے ۔ ایسا ہی ان کے بیٹے عبد الرحمان نے بھی اور آل اسود کو لوگ بوجہ ان کے زہد و تقویٰ کے اَهْلُ الْجَنَّةِ کہا کرتے تھے۔ یہ روایت ان کی نہایت قوی ہے۔ (عمدۃ القاری جزء دوم صفحہ۲۰۲ ) ، ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۹۶)