صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 179
صحيح البخاري - جلد ا ۱۷۹ ٣- كتاب العلم حَتَّى تَعْرِفَهُ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دوبارہ پوچھتیں۔یہاں تک کہ وہ اسے اچھی طرح سمجھ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حُوْسِبَ عُذِّبَ قَالَتْ لیتیں اور یہ کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس سے حساب کیا عَائِشَةُ فَقُلْتُ أَوَلَيْسَ يَقُولُ اللهُ تَعَالٰی : گیا۔اسے سزادی گئی۔(حضرت عائشہ کہتی تھیں : ) فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا اس پر میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتا (فَسَوْفَ (الإنشقاق:9) قَالَتْ فَقَالَ إِنَّمَا ذَلِكِ يُحَاسَبُ حِسَابًا يُسِيرًا) یعنی عنقریب اس سے الْعَرْضُ وَلَكِنْ مَّنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ آسان حساب لیا جائے گا۔کہتی تھیں : آپ نے فرمایا کہ یہ تو صرف پیش کرنا ہے۔حساب میں جس کی نکتہ يَهْلِكُ۔اطرافه ٤٩٣٩ ٦٥٣٦ ٦٥٣٧- چینی اور چھان بین ہوئی وہ ہلاک ہوگا۔تشریح : مَنْ سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ يَفْهَمُهُ فَرَاجَعَهُ: تحصیل علم کے ضمن میں اٹھا ئیسواں ادب یہ سکھلایا کہ معلم کا ہی یہ فرض نہیں کہ وہ تعلیم دیتے وقت اس بات کا خیال رکھے کہ سننے والا سمجھتا ہے یا نہیں۔بلکہ خود سننے والے کا بھی یہ فرض ہے کہ جو بات سمجھ میں نہ آئی ہو وہ پوچھ کر سمجھ لے اور بجا سوال کرنے سے نہ جھجکے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآن مجید کی ایک آیت کی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر سوال اٹھایا۔آپ نے اس آیت کا مفہوم واضح کیا: إِنَّمَا ذَلِكِ الْعَرْضُ۔یعنی اس سے یہ مراد ہے کہ انسان کے سامنے اس کے اعمال پیش کئے جائیں گے۔اور مَنْ حُوسِبَ عُذب سے آپ کی یہ مراد تھی کہ جس کے اعمال کی چھان بین ہوئی اور اس پر نکتہ چینی کی گئی اس سے مواخذہ ہو گا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال کرنے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کے نزدیک بھی آنحضرت کی وہ بات جو بظاہر قرآن مجید کے مخالف معلوم ہوتی ، اس کے متعلق سوال کرنا خلاف ادب نہیں سمجھا جاتا تھا۔صحابہ قرآن مجید کو اصل سمجھتے تھے اور حدیث کو اس کے تابع۔اور آنحضرت لے کے جواب سے ہمیں یہ ادب ہے کہ حدیث کے معنے کرنے میں ہم قرآن مجید کو مقدم رکھیں اور یہی اصل امام بخاری نے ملحوظ رکھا ہے۔باب ۳۷ : لِيُبَلِّغِ الْعِلْمَ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ چاہیے کہ جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو علم ( کی بات ) پہنچا دے سکھلایا گیا قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسِ عَنِ النَّبِي۔حضرت ابن عباس نے یہ بات نبی ﷺ سے بیان کی ١٠٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ :۱۰۴ ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيْدٌ لیث نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: سعید نے