صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 179 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 179

صحيح البخاری جلد ا ۱۷۹ ٣- كتاب العلم حَتَّى تَعْرِفَهُ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دوبارہ پوچھتیں۔ یہاں تک کہ وہ اسے اچھی طرح سمجھ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حُوْسِبَ عُذِّبَ قَالَتْ لیتیں اور یہ کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس سے حساب کیا عَائِشَةُ فَقُلْتُ أَوَلَيْسَ يَقُوْلُ اللهُ تَعَالَى : گیا ۔ اسے سزا دی گئی ۔ (حضرت عائشہ کہتی تھیں : ) فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا اس پر میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتا (فَسَوْفَ (الإنشقاق: 9) قَالَتْ فَقَالَ إِنَّمَا ذَلِكِ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا) یعنی عنقریب اس سے الْعَرْضُ وَلَكِنْ مَنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ آسان حساب لیا جائے گا۔ کہتی تھیں : آپ نے فرمایا يَهْلِكُ ۔ اطرافه ٤٩٣٩، 6536، 6537 کہ یہ تو صرف پیش کرنا ہے۔ حساب میں جس کی نکتہ چینی اور چھان بین ہوئی وہ ہلاک ہوگا۔ میں اٹھائیسواں ادب یہ تشريح : مَنْ سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ يَفْهَمُهُ فَرَاجَعَهُ : تحصیل علم کے ضمن میں ) سکھلایا کہ معلم کا ہی یہ فرض نہیں کہ وہ تعلیم دیتے وقت اس بار وقت اس بات کا خیال رکھے کہ : کہ سننے والا سمجھتا ہے یا نہیں۔ اہے بلکہ خود سننے والے کا بھی یہ فرض ہے کہ جو بات سمجھ میں نہ آئی ہو وہ پوچھ کر سمجھ لے اور بجا سوال کرنے سے نہ بھیجگے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآن مجید کی ایک آیت کی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر سوال پر سوال اٹھایا۔ آپ نے اس آیت کا مفہوم واضح کیا: إِنَّمَا ذَلِكِ الْعَرْضُ ۔ یعنی اس سے یہ مراد ہے کہ انسان کے سامنے اس کے اعمال پیش کئے جائیں گے۔ اور مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ سے آپ کی یہ مراد تھی کہ جس کے اعمال کی چھان بین ہوئی اور اس پر نکتہ چینی کی گئی اس سے مواخذہ ہوگا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال کرنے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کے نزدیک بھی آنحضرت م کی وہ بات جو بظاہر قرآن مجید کے مخالف معلوم ہوتی ، اس کے متعلق سوال کرنا خلاف ادب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ صحابہ قرآن مجید کو اصل سمجھتے تھے اور حدیث کو ربیت کو اس کے تابع ۔ اور آنحضرت علی کے جوار ے جواب سے ہمیں یہ ادب سکھلایا گیا صلى الله عروس سے ہے کہ حدیث کے معنے کرنے میں ہم قرآن مجید کو مقدم رکھیں اور یہی اصل امام بخاری نے ملحوظ رکھا ہے۔ باب ۳۷ : لِيُبَلِّغِ الْعِلْمَ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ چاہیے کہ جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو علم ( کی بات) پہنچادے صلى الله قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ۔ حضرت ابن عباس نے یہ بات نبی ﷺ سے بیان کی ١٠٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۱۰۴ : ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ لیٹ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سعید نے