صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 178
صحيح البخاری جلد ا ثَلَاثَةً لَّمْ يَبْلُغُوْا الْحِنْتَ۔طرفه: ١٢٥٠ IZA ٣- كتاب العلم ابو حازم سے سنا۔وہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ اللہ نے فرمایا: تین ایسے ( بچے ) جوا بھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں۔تشریح : هَلْ يُجْعَلُ لِلنِّسَاءِ يَوْم : یا لگ اب قائم کرنے کی ضرورت اس اعتراض کی وجہ سے پیش آئی ہے جو آج کل بھی اُٹھایا جاتا ہے۔امام بخاری کے نزدیک نہ صرف یہ جائز بلکہ سنت نبوی کے مطابق ضروری ہے کہ عورتوں کو جمع کر کے انہیں تعلیم دی جائے۔اپنے گھر کی عورتوں کو بھی اور دوسری عورتوں کو بھی۔فَقَا لَتِ امْرَأَةٌ وَّ اثْنَيْنِ فَقَالَ وَاثْنَيْنِ : شارمین نے مختلف روایتیں لا کر یہ بحث اٹھائی ہے کہ اس حدیث میں دو تین کی تخصیص نہیں۔بلکہ بعض پوچھنے والوں نے ایک بچے کے متعلق بھی پوچھا تو آپ نے فرمایا : ایک بھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین کا عدد جو آپ نے اس موقع پر اختیار کیا تو کسی خاص عورت کے دل کو تسکین دینے کے لئے اختیار کیا ہے جس کے تین بیٹے فوت ہو گئے تھے اور جس عورت نے دو کے متعلق پوچھا اس کو یہی غلط نہی ہوئی کہ تین کی تعداد حصر کے لئے ہے۔آپ نے دو کی تعداد کو بھی تسلیم فرما کر اس کی غلط فہمی دور کی۔(عمدۃ القاری جزء دوم صفحه ۱۳۴) كتاب الرقاق، باب العمل الذى يبتغي به وجه الله میں امام بخاری نے حضرت ابو ہریرہ سے اس کے ہم معنی جو حدیث نقل کی ہے۔اس میں اِحْتَسَبَهُ کا لفظ ہے یعنی اس پیاری چیز کے چلے جانے پر جو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر صبر کرتا ہے ، وہ جنت میں داخل ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی مراد ہے کہ جو عورت ایسے اندوہناک صدمہ پر رضاء الہی کی خاطر صبر کرتی ہے وہ بچے اس کے لئے آگ کے سامنے آڑ ہو جائیں گے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔اس میں ہمیں ستائیسواں ادب علم کے متعلق یہ سکھلایا ہے کہ تعلیم ووعظ میں وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو دل کی سوزشوں کے لئے پانی کا کام کرے۔اس حدیث کی مزید تشریح اپنے موقع پر ہوگی۔بَاب ٣٦ : مَنْ سَمِعَ شَيْئًا فَرَاجَعَ حَتَّى يَعْرِفَهُ جو شخص کوئی بات سنے اور پھر اس کو دوبارہ اس لئے پوچھے کہ وہ اسے اچھی طرح معلوم کر لے ١٠٣: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ١٠٣: ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِي نافع بن عمر نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: ابوملیکہ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ کے بیٹے نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ نبی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی جس بات کو نہ جانتی ہوتیں لَا تَسْمَعُ شَيْئًا لَا تَعْرِفُهُ إِلَّا رَاجَعَتْ فِيْهِ جب بھی اسے وہ سنتیں تو وہ ضرور ہی اس کے متعلق