صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 176 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 176

صحيح البخاری جلد ا ۱۷۶ ٣- كتاب العلم الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ کوئی عالم نہیں رہتا تو لوگ ایسے جاہلوں کو سردار بنا النَّاسُ رُؤُوْسًا جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا لیتے ہیں کہ جن سے اگر ( کوئی مسئلہ ) پوچھا جائے تو بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَأَضَلُّوا۔ بغیر علم کے فتوی دیتے ہیں۔ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ قَالَ الْفِرَبْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ قَالَ فربری کہتے تھے: حضرت عباس نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامٍ کیا۔ کہا: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ کہا: جریر نے ہشام سے روایت کرتے ہوئے ہمیں اسی طرح نَحْوَهُ۔ طرفه: ۷۳۰۷ بتلایا۔ تشریح : كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ: اس باب میں اس خطر اس خطرناک مرض کی طرف توجہ دلائی ہے جو قدیم زمانہ سے علماء میں چلا آتا تھا اور وہ بے اتھا اور وہ یہ کہ علماء علم کو بطور سر بستہ راز ۔ ا علم کو بطور سر بستہ راز کے رکھتے تھے۔ اب بھی ایک حد تک یہ مرض ۔ یہ مرض موجود ہے جو سینہ بسینہ چلا آتا ہے جس کا ازالہ اس زمانہ کی نشر و اشاعت نے بڑی حد تک کیا ہے۔ یہ وبائی مرض علم کے لئے طاعون کی طرح مہلک ثابت ہوا ہے۔ قرون مظلمہ میں اسلام نے اس کے برخلاف اونچی آواز سے صدا بلند کی جو سپین میں جا کر سارے یورپ میں اس زور سے گونجھی کہ جہالت کے گھٹا ٹوپ بادل چھٹ گئے اور تاریک راتیں کا فور ہوگئیں۔ احادیث نبویہ کو جمع کرنے اور ان کو کتابی صورت میں محفوظ رکھنے کے لئے سب سے پہلے حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنی امیہ نے اہتمام کیا ۔ ان کے حکم سے سب سے پہلے جس نے احادیث کو لکھا؟ وہ ابن شہاب زہری ہیں۔ جو امام مالک کے استاد تھے اور اس سے قبل یہ سلسلہ زبانی روایات تک محدود تھا۔ اگر چہ ان کی خلافت کا زمانہ بہت تھوڑا تھا۔ یعنی 99ھ سے ان اھ تک ۔ مگر آپ علم و تقویٰ کے اس اعلیٰ مقام پر تھے کہ پہلی صدی کے مجد تسلیم کئے گئے ہیں۔ آپ نے اس قلیل عرصہ میں قوم کے اندر ایک نئی زندگی کی روح پھونک دی تھی اور جذبات جو ذب چکے تھے وہ از سر نو اُبھار دیئے ۔ آپ نے اپنے عمال کو تدوین حدیث کے متعلق احکام بھیجے ۔ جن میں سے ایک ابن حزم انصاری بھی تھے۔ یہ آپ کی طرف سے مدینہ منورہ کے قاضی تھے اور اعلیٰ پایہ کے فقیبہ بھی تھے۔ ابو نعیم ۔ تھے۔ ابونعیم نے تاریخ اصبہان میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے ان خطوط کا ذکر کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۵۷) يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ : علم و جہالت اسی طرح ضد واقع ہوئے ہیں جیسے نور و ظلمت ۔ آنحضرت نے یہ قاعدہ کلیہ کے طور پر فرمایا اور بتلایا ہے کہ علم فی نفسہ کوئی ایسی شئے نہیں، جو خود بخود دنیا میں قائم رہے۔ بلکہ علماء کے وجود کے ساتھ اس کا بقاء ہے اور کسی قوم کی آبادی یا بربادی علماء کے موجود ہونے یا نہ ہونے کے ساتھ ہے۔ اس میں علم کے متعلق چھبیسواں ادب سکھلایا ہے کہ قوم کا فرض ہے کہ وہ علماء پیدا کر اء پیدا کرنے کی طرف خاص خیال رکھے۔ صلى الله عروسة