صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 175 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 175

صحيح البخاري - جلد ا ۱۷۵ بَاب ٣٤: كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ علم کس طرح اُٹھا لیا جائے گا ٣- كتاب العلم وَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلى أَبِي اور عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن حزم کو لکھا: دیکھو بَكْرِ بْنِ حَزْمِ انْظُرْ مَا كَانَ مِنْ حَدِيْثِ رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کی جو حدیث ہو وہ لکھ لیا رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاكْتُبْهُ کرو۔کیونکہ مجھے علم کے مٹ جانے اور علماء کے چلے فَإِنِّي خِفْتُ دُرُوْسَ الْعِلْمِ وَذَهَابَ جانے کا خوف ہے اور صرف وہی قبول کرنا جو نبی الْعُلَمَاءِ وَلَا تَقْبَلْ إِلَّا حَدِيْثَ النَّبِيِّ صَلَّى ﷺ کی حدیث ہو اور چاہیے کہ (علماء) علم کو الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلْتُفْشُوا الْعِلْمَ پھیلائیں اور انہیں بیٹھ جانا چاہیے، تا جو بے علم ہو وَلْتَجْلِسُوا * حَتَّى يُعَلَّمَ مَنْ لَّا يَعْلَمُ اس کو علم دیا جائے۔کیونکہ علم ضائع نہیں ہوتا مگر اس فَإِنَّ الْعِلْمَ لَا يَهْلِكُ حَتَّى يَكُوْنَ سِرًّا۔وقت جب وہ بطور ایک راز کے ہو جاتا ہے۔حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قَالَ ہم سے علاء بن عبد الجبار نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ عبد العزيز بن مسلم نے عبداللہ بن دینار سے روایت اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ بِذَلِكَ يَعْنِي حَدِيْثَ عُمَرَ کرتے ہوئے ہمیں یہ بتلایا۔یعنی عمر بن عبدالعزیز کی ابْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى قَوْلِهِ ذَهَابَ الْعُلَمَاءِ یہ بات ان کے اس قول تک : علماء کا چلے جانا۔١٠٠: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ بْنُ أَبِي ۱۰۰ ہم سے اسماعیل بن ابی اُولیس نے بیان کیا، أُوَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ کہا: مالک نے مجھے بتلایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ ابْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ عبد الله بن عمرو بن العاص سے روایت کی۔وہ کہتے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ إِنَّ اللهَ تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ بندوں سے یونہی چھینا جھپٹی کر کے علم نہیں اٹھایا کرتا الْعِبَادِ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ بلکہ وہ علماء کو اٹھا کر علم اٹھالیتا ہے۔یہاں تک کہ جب ی فتح الباری مطبوعہ بولاق میں الفاظ ”وَلْيُفْشُوا الْعِلْمَ وَلْيَجْلِسُوا ہیں۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۲۵۶)