صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 174 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 174

صحيح البخاري - جلد | ۱۷۴ ٣- كتاب العلم رَسُوْلَ اللهِ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ ( آپ سے) پوچھا گیا: یا رسول اللہ ! قیامت کے روز يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله لوگوں میں سے وہ کون خوش قسمت ہے۔ جس کی آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ سفارش فرمائیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لَّا يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيْثِ أَحَدٌ أَوَّلُ ابو ہریرہ مجھے یہی خیال تھا کہ تم سے پہلے یہ بات مجھ مِنْكَ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى سے اور کوئی نہیں پوچھے گا۔ کیونکہ میں دیکھ چکا ہوں جو حرص تمہیں حدیث کے متعلق ہے۔ قیامت کے روز الْحَدِيثِ ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ میری شفاعت کے ذریعہ لوگوں میں سے خوش قسمت وہ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصًا مِّنْ شخص ہوگا جس نے اپنے دل یا فرمایا اپنے نفس کے قَلْبِهِ أَوْ نَفْسِهِ۔ اخلاص سے یہ کہا: اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ طرفه ٦٥٧٠ تشريح : مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ خَالِصًا مِنْ قَلهِ : اسلام کا سارا خلاص اس ایک فقرے میں۔ ہے۔ تمام محبتوں سے روگردانی کرتے ہوئے ایک اللہ کی محبت دل میں بسانا اور اس کی محبت میں ہو کر دوسروں سے سے محبت کرنا ، یہی خلاصہ ہے دین اسلام کا اور اس کی تشریح قرآن مجید نے ان الفاظ میں فرمائی ہے: قُلْ إِنْ كَانَ آبَاءُ كُمُ وَأَبْنَاءُ كُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسْكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (التوبة: (۲۴) اس آیت کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- و یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہاری برادری اور تمہارے وہ مال جو تم نے محنت سے کمائے ہیں اور تمہاری سوداگری جس کے بند ہونے کا تمہیں خوف ہے اور تمہاری حویلیاں جو تمہارے دل پسند ہیں، خدا سے اور اس کے رسول سے اور خدا کی راہ میں اپنی جانوں کو لڑانے سے زیادہ پیارے ہیں تو تم اس وقت تک منتظر رہو کہ جب تک خدا اپنا حکم ظاہر کرے اور خدا بد کاروں کو کبھی اپنی راہ نہیں دکھائے گا۔“ مزید تشریح کے لئے دیکھئے: اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۶۸ ۷۰۰ ۔ روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۸۴،۳۸۲) انسان کا جو اقرار بھی دل کے ساتھ ہوگا ۔ وہ عملی رنگ میں بھی پوری قوت کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ ( ملاحظہ ہو تشریح حدیث نمبر 1) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی حقیقت و عظمت کا اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کیسی کڑی شرط اپنے ساتھ رکھتی ہے۔