صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 170
صحيح البخاري - جلد ا 12۔٣- كتاب العلم ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: انہوں نے حضرت انس اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی ﷺ کے متعلق بیان بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتَّى تُفْهَمَ عَنْهُ کیا کہ آپ جب کوئی بات کرتے تو اسے تین بار وَإِذَا أَتَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ دِہراتے حتی کہ وہ آپ سے سمجھ لی جاتی اور جب آپ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا کسی قوم کے پاس آتے تو تین بار السلام علیکم اطرافه: ٩٤، ٦٢٤٤۔کہتے۔٩٦ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۹۶: ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: ابوعوانہ نے ہمیں أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ يُوْسُفَ بُن بتلایا۔انہوں نے ابو بشر سے، ابو بشر نے یوسف بن مَاهِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ مالک سے، یوسف نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تَخَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پیچھے رہ گئے جو کہ ہم نے کیا تھا۔پھر آپ ہم سے آملے وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ اور حالت یہ تھی کہ ہم نماز میں یعنی نماز عصر میں اتنی دیر کر أَرْهَقْنَا الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعَصْرِ وَنَحْنُ چکے تھے کہ دوسری کا وقت بھی شروع ہونے کو تھا ) اور نَتَوَضَّأُ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا ہم ابھی وضو ہی کر رہے تھے۔یہ دیکھ کر ہم نے اپنے فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ پاؤں کو یونہی پانی سے پونچھنا شروع کر دیا۔اس پر آپ نے بلند آواز سے پکارا۔ہائے شامت ! ان ایڑیوں کی النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا۔اطرافه: ٦٠، ١٦٣۔آگ سے۔دو دفعہ یا تین دفعہ فرمایا۔أَلَا وَقَوْلَ الزُورِ : یہ ایک حدیث کا ٹکڑا ہے جو امام بخاری نے کتاب الشهادات ، باب ماقيل فی قول الزور میں موصولاً نقل کیا ہے۔ألا أُنبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ثَلاثًا۔تین بار پوچھا: کیا میں تمہیں بڑے سے بڑا گناہ نہ بتلاؤں؟ صحابہ نے کہا: بتلائیے۔فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا۔والدین کی نافرمانی کرنا۔آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے۔یہ کہہ کر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا: أَلَا وَقَولَ النُّورِ۔آپ نے یہ جملہ اتنی بارد ہرایا کہ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے چاہا کاش آپ خاموش ہو جائیں۔أَلَا هَلُ بَلْغُتُ : یہ اس خطبہ کے آخری الفاظ ہیں۔جو آپ نے حجتہ الوداع میں پڑھا اور صحابہ کومخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری آبرو کیں اسی طرح معزز ہیں جیسے تمہارا یہ دن۔دیکھنا !