صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 168 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 168

صحيح البخاری جلد ا ۱۶۸ ٣- كتاب العلم اس سے کیا واسطہ۔فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ : درس و تدریس میں سوالات کا دروازہ کھول دینا بغیر مناسب حدود کی نگہداشت کے اکثر نقصان کا موجب ہوتا ہے۔اس واقعہ میں بھی ایسا ہی ہوا ہے کہ لوگ لغو باتوں میں پڑ گئے جس سے آپ کو غصہ آیا۔حضرت عبداللہ بن حذافہ وہی صحابی ہیں جن کو کسرای کی طرف خط دے کر بھیجا گیا تھا۔یہ اور حضرت سعد بن سالم دونوں اپنے نسب میں مطعون تھے اور لڑائی جھگڑے کے وقت لوگ ان پر طعنہ زنی کیا کرتے تھے۔اس لئے انہوں نے اپنے نسب کے متعلق پوچھا۔معلوم ہوتا ہے کہ اس مجلس میں اس قسم کی لغو باتیں ہوئی ہیں جس سے آپ کو تکلیف پہنچی اور آپ نے سوالات کی اجازت دی۔اس موقع پر بھی غصے کا اظہار آپ نے سخت کلامی سے نہیں کیا بلکہ جواب میں وہ دانشمندانہ طریق اختیار کیا ہے جس سے سوال کرنے والے ہمیشہ کی طعن وتشنیع سے نجات پاگئے۔قرآن مجید نے بھی اس قسم کے بے محل و بے موقع اور لغو سوالات سے روکا ہے۔یہ بائیسواں ادب ہے معلم اور متعلم دونوں کے لئے۔قَالَ عُمَرُ إِنَّا نَتُوبُ إِلى اللهِ : حضرت عمر نے تمام صحابہ کی طرف سے معذرت کی ہے کہ آئندہ ہم میں : ـ ایسی بیہودہ باتیں نہ ہوں گی۔بَاب ۲۹ : مَنْ بَرَكَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ عِنْدَ الْإِمَامِ أَوِ الْمُحَدِّثِ جو شخص امام یا محدث کے سامنے اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھے ٩٣: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا :۹۳ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي ہمیں بتلایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔وہ کہتے أَنَسُ بْنُ مَالِكِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى تھے کہ حضرت انس بن مالک نے مجھے بتلایا کہ رسول اللہ صل الله باہر نکلے تو حضرت عبداللہ بن حذافہ کھڑے ہو اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ گئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ میرا باپ کون حُذَافَةَ فَقَالَ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہے۔پھر آپ ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُوْلَ سَلُوْنِي فَبَرَكَ عُمَرُ نے بہت دفعہ فرمایا: پوچھو مجھ سے۔مگر حضرت عمرؓ اپنے عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ رَضِيْنَا بِاللَّهِ رَبًّا دونوں گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا: وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى الله بس ہم راضی ہیں کہ اللہ (ہمارا) رب ہے اور اسلام صلى الله (ہمارا دین ہے اور محمد ﷺ ہمارے ) نبی ہیں۔اس پر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا فَسَكَتَ۔آپ خاموش ہو گئے۔اطرافه ٥٤٠ ٧٤٩، ٤٦٢١ ٦٣٦٢ ٦٤٦٨، ٦٤٨٦، ۷۰۸۹، ۷۰۹۰، ۷۰۹۱، ۷۲۹۰ ،۷۲۹٤