صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 167
صحيح البخاري - جلد ا 192 ٣- كتاب العلم فَضَالَّةُ الْغَنَم قَالَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ اس نے کہا: گھی ہوئی بکری؟ فرمایا: تیری یا تیرے بھائی کی یا بھیڑیے کی۔لِلذِّئب۔اطرافه ۲۳۷۲ ،۲٤۲۷، ٢٤۲۸، ٢٤٢٩، ۲٤٣٦، ۲٤۳۸، ۵۲۹۲، ٦١١۲۔:٩٢ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ :۹۲: ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا: ابو اسامہ نے حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ عَنْ أَبِي ہمیں بتلایا۔انہوں نے مُرید سے، بُرید نے ابو بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابو موسی سے روایت کی۔وہ بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ کہتے تھے کہ نبی ﷺ سے بعض ایسی باتوں کے متعلق صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَاءَ پوچھا گیا جن کو آپ نے ناپسند کیا۔جب آپ سے كَرِهَهَا فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ ثُمَّ قَالَ بہت سوال کئے گئے تو آپ کو غصہ آیا اور آپ نے لِلنَّاسِ سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ لوگوں سے کہا: پوچھو مجھ سے جس کے متعلق بھی چاہو۔مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ فَقَامَ آخَرُ تب ایک شخص نے کہا: میرا باپ کون ہے؟ فرمایا: تمہارا فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُوْلَ اللهِ فَقَالَ أَبُوكَ بِاپ حذافہ ہے۔اس کے بعد ایک اور اُٹھا اور اس نے کہا: یارسول اللہ ! میرا باپ کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا: سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي تمہارا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔جب وَجْهِهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَتُوبُ إِلَى حضرت عمرؓ نے اس ( تغیر ) کو دیکھا جو آپ کے چہرہ میں تھا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ ہم اللہ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ۔طرفه: ۷۲۹۱ تشریح: عزوجل کے حضور ( اپنی غلطی سے ) رجوع کرتے ہیں۔الْغَضَبُ فِى الْمَوْعِظَةِ وَالتَّعْلِيمِ: غَضَبٌ عربی زبان میں مطلق ناپسندیدگی کے احساس کو کہتے ہیں اور مجازاً اس احساس کے اظہار کو بھی کہتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ اظہار آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ ہوا ہے کہ چہرہ کا رنگ بدل گیا ہے مگر زبان قابو میں رہی ہے اور شفقت آمیز یا حسرت بھرے الفاظ منہ سے نکلے ہیں۔یہاں بھی اس قسم کے احساس کا اظہاران پیارے الفاظ میں فرمایا ہے: اِنَّكُمُ مُنَفِّرُونَ اور یہ بھی کمال شفقت و ہمدردی کی وجہ سے۔آج کل کے احمق مولوی ذرہ ذرہ بات پر منہ سے جھاگ نکالنا شروع کر دیتے ہیں اور گالیوں پر اتر آتے ہیں اور اساتذہ تو بچوں پر بھیڑیوں کی طرح حملہ آور ہوتے ہیں۔حالانکہ وعظ ونصیحت میں محض ناراضگی کا اظہار قطعا کسی کام نہیں آتا۔جب تک کہ اس کے پیچھے شفقت سے بھرا ہوا دل نہ ہو۔اِحْمَرَّ وَجْهُهُ : آپ کو غصہ اس لئے آیا کہدہ خواہ خواہ دوسروں کی گمشدہ چیزوں کو استعمال کرنے کے راستے تلاش کر رہا تھا۔یہ کوئی اچھی روح نہ تھی اور آپ نے غصہ میں بھی ضبط الفاظ کا اعلیٰ نمونہ دکھلایا ہے۔مَالَكَ وَلَهَا تجھے