صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 167 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 167

صحيح البخاری جلد ا ۱۶۷ ٣- كتاب العلم فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ اس نے کہا: گھی ہوئی بکری؟ فرمایا: تیری یا تیرے للذنب ۔ بھائی کی یا بھیڑیے کی۔ اطرافه ۲۳۷۲، ۲۴۲۷، ٢٤۲۸، ٢٤٢٩، ٢٤٣٦ ، ٢٤٣٨، ٥٢٩٢، ٦١١٢۔ ۹۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ ۹۲ : ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا: ابواسامہ نے حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي ہمیں بتلایا ۔ انہوں نے بُرید سے، مرید نے ابو بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابوموسی سے روایت کی۔ وہ بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله سے بعض ایسی باتوں کے متعلق کہتے تھے کہ نبی ﷺ سے بعض ا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَاءَ پوچھا گیا جن کو آپ نے نا پسند کیا۔ جب آپ سے كَرِهَهَا فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ ثُمَّ قَالَ بہت سوال کئے گئے تو آپ کو غصہ آیا اور آپ نے لِلنَّاسِ سَلُوْنِي عَمَّا شِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ لوگوں سے کہا: پوچھو مجھ سے جس کے متعلق بھی چاہو۔ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ فَقَامَ آخَرُ تب ایک شخص نے کہا: میرا باپ کون ہے؟ فرمایا: تمہارا فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُوكَ بِاپ حذافہ ہے۔ اس کے بعد ایک اور اُٹھا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا: سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي تمہارا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔ جب وَجْهِهِ قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّا نَتُوْبُ إِلَى حضرت عمرؓ نے اس ( تغیر ) کو دیکھا جو آپ کے چہرہ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ۔ طرفه ۷۲۹۱ صلى الله میں تھا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ ہم اللہ عز و جل کے حضور (اپنی غلطی سے ) رجوع کرتے ہیں۔ تشريح : الْغَضَبُ فِي الْمَوْعِظَةِ وَالتَّعْلِيمِ: غَضَبٌ عربی زبان میں مطلق ناپسندیدگی کے احساس کو کہتے ہیں اور مجازاً اس احساس کے اظہار کو بھی کہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اظہار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ ہوا ہے کہ چہرہ کا رنگ بدل گیا ہے مگر زبان قابو میں رہی ہے اور شفقت آمیز یا حسرت بھرے الفاظ منہ سے لگے ہیں۔ یہاں بھی اس یہاں بھی اس قسم کے احساس کا اظہاران پیارے الفاظ میں فرمایا ہے: میں فرمایا ہے: إِنَّكُمْ مُنفِرُونَ اور یہ بھی کمال شفقت و ہمدردی کی وجہ سے ۔ آج کل کے احمق مولوی ذرہ ذرہ بات پر منہ سے جھاگ نکالنا شروع کر دیتے ہیں اور گالیوں پر اتر آتے ہیں اور اساتذہ تو بچوں پر بھیڑیوں کی طرح حملہ آور ہوتے ہیں۔ حالانکہ وعظ و نصیحت میں محض ناراضگی کا اظہار قطعاً کسی کام نہیں آتا۔ جب تک کہ اس کے پیچھے شفقت سے بھرا ہوا دل نہ ہو۔ احْمَرَّ وَجْهُهُ : آپ کو غصہ اس لئے آیا کہ وہ خواہ مخواہ دوسروں کی گمشدہ چیزوں کو استعمال کرنے کے راستے تلاش کر رہا تھا۔ یہ کوئی اچھی روح نہ تھی اور آپ نے غصہ میں بھی ضبط الفاظ کا اعلیٰ نمونہ دکھلایا ہے۔ مَالَكَ وَلَهَا تجھے