صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 161 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 161

صحيح البخاری جلد ) ١٦١ ٣- كتاب العلم کسی چیز کا بالمواجہ یعنی آمنے سامنے ہونا ضروری ہے یا نہیں، یہ ثابت کیا ہے کہ یہ ایک کشفی نظارہ تھا اور یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے مثالی رنگ میں جنت اور دوزخ اسی طرح دکھلائی ہو، جس طرح کہ آئینہ میں اشیاء کا انعکاس دکھلایا جاتا ہے۔ ( عمدۃ القاری جزء دوم صفحہ ۹۷ ) چنانچہ حضرت انس کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : لَقَدْ رَأَيْتُ الآنَ ۔۔۔ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قِبْلَةِ هَذَا الْجِدَارِ۔ (بخارى كتاب الآذان باب ۹ رفع البصر الى الامام في الصلوة۔ روایت نمبر ۷۴۹) به رویت از قبیل مکاشفات تھی۔ انبیاء کے روحانی حواس اس قدر روشنی وحدت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ کامل بیداری کی حالت میں عالم روحانی کے حقائق محسوس صورت میں دیکھ لیتے ہیں۔ (دیکھئے کتاب الوضوء ۔ روایت نمبر ۲۱۶، ۲۱۸) بَاب ٢٥ : تَحْرِيضُ النَّبِيِّ ﷺ وَقْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى أَنْ يَحْفَظُوْا الْإِيْمَانَ وَالعِلْمَ وَيُخْبِرُوْا مَنْ وَرَاءَهُمْ صلى الله علی نبی کا عبد القیس کے نمائندوں کو رغبت دلانا کہ وہ ایمان اور علم کی حفاظت کریں اور جو اُن کے پیچھے ہیں، انہیں بھی بتا دیں وَقَالَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ قَالَ لَنَا اور مالک بن حویرث کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعُوا نے ہمیں فرمایا: اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ إِلَى أَهْلِيْكُمْ فَعَلِمُوْهُمْ۔ اور انہیں سکھاؤ۔ ۸۷: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ۸۷ ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ نے ہم سے بیان کیا۔ غندر نے کہا: شعبہ نے ابو جمرہ صلى الله أَبِي جَمْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے کہا: میں (ایران میں ) حضرت ابن عباس اور لوگوں عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ کے درمیان ترجمانی کیا کرتا تھا۔ انہوں نے کہا: الْقَيْسِ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عبد القیس کے نمائندے نبی ﷺ کے پاس آئے۔ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنِ الْوَقْدُ أَوْ مَنِ الْقَوْمُ آپ نے فرمایا: یہ نمائندے کون ہیں؟ یا (فرمایا) یہ قَالُوا رَبِيعَةُ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ لوگ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: ربیعہ قوم ۔ آپ نے بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى قَالُوا إِنَّا فرمایا: خوشی سے آئے یہ قوم یا (فرمایا) یہ وفد ۔ نہ کبھی نَأْتِيْكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ رسوا ہوں نہ پشیمان۔ انہوں نے کہا: ہم آپ کے پاس