صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 160
صحيح البخاري - جلد 1 ۱۶۰ ٣- كتاب العلم بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا هُوَ سا لفظ کہا۔ مومن یا یقین کرنے والا کہے گا: وہ محمد اے مُحَمَّدٌ ثَلَاثًا فَيُقَالُ نَمْ صَالِحًا قَدْ ہیں ۔ (وہ) اللہ کے رسول ہیں۔ وہ ہمارے پاس کھلے کھلے دلائل اور ہدایت کی باتیں لائے اور ہم نے ان کو عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُوْقِنَا بِهِ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ قبول کیا اور ان کی پیروی کی۔ وہ محمد صلى الله ہیں۔ تین بار أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ یہی کہے گا۔ تب اسے کہا جائے گا: سوجا آرام سے۔ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ ہمیں تو علم تھا کہ تو ان پر یقین لانے والا ہی ہے اور جو يَقُوْلُوْنَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ۔ منافق ہوگا یا شک کرنے والا۔ راوی نے کہا: مجھے علم نہیں کہ ان میں سے حضرت اسماء نے کون سا لفظ کہا۔ وہ کہے گا: مجھے پتہ نہیں۔ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا اور میں نے بھی کہہ دیا۔ اطرافه ۱٨٤ ، ۹۲۲ ، ۱۰۵۳ ، 1054 ، 1061، ۱۲۳۵، ۱۳۷۳، ۵۲۱۹، ٢٥٢٠، ٧٢٨٧۔ أَجَابَ الْفُتْيَا بِإِشَارَةِ الْيَدِ وَالرَّأْسِ : امام بخاری نے اٹھارواں ادب دو حدیثیں تشریح کر یہ ایک انسان نانی امی کو اسی بھی بیان کرسکتا ہے علما - اشارے کر سکتا ہے۔ علماء کو یہ عادت ہو چکی ہے کہ جب تک مسئلہ کو منطقی پیچیدگیوں میں لا کر ایک طول طویل تقریر نہ کرلیں، ان کو تسلی ہی نہیں ہوتی ۔ امام موصوف نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو پیش کر کے سمجھایا ہے کہ خواہ مخواہ وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ اشارے سے بھی انسان بڑے بڑے مضمون ادا کر سکتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مَا قَلَّ وَدَلَّ کا خصوصیت سے خیال رکھتے تھے۔ جیسا کہ آپ کے اقوال کے مطالعہ سے واضح ہوگا ۔ امام بخاری نے بھی استدلات میں اکثر یہی طرز اختیار کی ہے اور وہ اشاروں ہی اشاروں میں اہم مطالب بیان کر گئے ہیں۔ انہوں نے یہ باب بھی اس غرض سے باندھا ہے کہ تا اپنے مخصوص طریقہ افتاء کی طرف توجہ دلائیں ۔ مَا الْهَرْجُ : الهرج کا صحیح مفہوم مقتل وغارت کے الفاظ ادا کرتے ہیں۔ حبشہ زبان میں اس کے معنی قتل کے ہیں۔ وغارت کے آپ نے مار دھاڑ ، غارت گری کو بھی موعودہ تباہی کی علامتوں میں سے قرار دیا ہے۔ اس کی مفصل بحث انشاء اللہ تعالیٰ کتاب الفتن میں آئے گی۔ اسماء: حضرت عائشہ کی بہن، حضرت ابوبکر کی بیٹی تھیں ۔ یہ سو برس کی عمر پا کر سے چھ میں فوت ہوئیں ۔ پا کر حضرت عبداللہ بن زبیر انہی کے بیٹے تھے اور اسی ماں نے اپنے اس بیٹے کو مشورہ دیا تھا کہ حجاج بن یوسف کے مقابلہ سے پیٹھ پھیر کر میرے پاس نہ آنا ۔ جام شہادت پینا بہتر ہے۔ نہایت قوی دل ، قوی جسم تھیں ۔ آخری عمر میں بھی ان کے دانت نہیں گرے۔ امام بخاری اس واقعہ سے بھی وہی استدلال کرتے ہیں۔ یعنی اشارے سے مفہوم بخوبی ادا کیا جا سکتا ہے۔ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ : علامہ عینی نے یہاں پر یہ بحث اٹھا کر کہ رؤیت میں