صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 159
صحيح البخاری جلد ا ۱۵۹ ٣- كتاب العلم فَقَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ فَحَرَّفَهَا كَأَنَّهُ يُرِيْدُ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس طرح اور ہا تھ کو چھری پھیرنے کی طرح) ہلایا۔گویا آپ کی مرافق تھی۔الْقَتْلَ۔اطرافه ۱٠٣٦، ۱۴۱۲، ۳۶۰۸، ٤٦٣٥ ٤٦٣٦ ٦٠٣٧، ٦٥٠٦، 6935، ۷۱۲۱ ،۷۱۱۰ ،۷٠٦١ ٨٦: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۸۶: ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا۔کہا: وہیب قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ہشام نے ہمیں عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ أَتَيْتُ بتلایا۔انہوں نے فاطمہ سے، فاطمہ نے حضرت اسماء عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا شَأْنُ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں : میں حضرت عائشہ کے پاس آئی۔وہ نماز پڑھ رہی تھیں۔میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا النَّاسِ فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا ہوا ؟ ( کہ بے وقت نماز پڑھ رہے ہیں) انہوں نے النَّاسُ قِيَامٌ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللهِ قُلْتُ آسمان کی طرف اشارہ کیا اور میں نے دیکھا کہ لوگ نماز آيَةٌ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ فَقُمْتُ میں کھڑے ہیں۔حضرت عائشہ نے سُبحَانَ اللہ کہا۔حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْئُ فَجَعَلْتُ أَصْبُ میں نے پوچھا: کوئی نشان ظاہر ہوا ہے؟ انہوں نے اپنے عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سرسے اشارہ کیا۔یعنی ہاں۔اس پر میں بھی نماز میں کھڑی ہوگئی ( اور اتنی دیر تک کھڑی رہی ) کہ مجھ پر غشی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَثْنَى طاری ہونے لگی۔میں نے اپنے سر پر پانی ڈالنا شروع عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ لَّمْ أَكُنْ أُرِيتُهُ کیا، اتنے میں نبی ﷺ نے اللہ عزوجل کی حمد بیان کی إِلَّا رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ اور اس کی تعریف کی۔پھر فرمایا: ہر وہ چیز جو مجھے پہلے نہیں دکھائی گئی تھی ، اب میں نے وہ ( یہاں ) اپنی جگہ کھڑے فَأَوْحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُوْنَ فِي قُبُوْرِكُمْ کھڑے دیکھ لی ہے؛ یہاں تک کہ جنت بھی اور جہنم مِثْلَ أَوْ قَرِيْبَ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ بھی۔پھر مجھے یہ جی کی گئی کہ تم اپنی اپنی قبروں میں ویسے أَسْمَاءُ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ يُقَالُ ہی یا اس کے قریب قریب آزمائے جاؤ گے جیسے مسیح مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَو دجال کے فتنہ سے۔راوی نے کہا: میں نہیں جانتا کہ حضرت اسماء نے ان میں سے کون سا لفظ کہا۔پوچھا الْمُوْقِنُ لَا أَدْرِي بِأَيْهِمَا قَالَتْ أَسْمَاءُ جائے گا: اس شخص کے متعلق تمہارا کیا علم ہے؟ راوی نے فَيَقُوْلُ هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا کہا: میں نہیں جانتا کہ حضرت اسمائو نے ان میں سے کون