صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 158
صحيح البخاري - جلد ا ۱۵۸ ٣- كتاب العلم تشریح : الْفُتْيَا وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الدَّابَّةِ : باب مذکور میں جو حدیث لائی گئی ہے۔اس میں آپ کے آخری حج کا ذکر ہے۔آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے تا سب لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور پوچھنے والے کو آپ آسانی سے جواب دے سکیں۔امام بخاری نے علم کے بیان میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کر کے سترھویں ادب کی طرف توجہ دلائی ہے کہ علماء کو کنج تنہائی میں جیسا کہ ان کی عادت ہو چکی ہے نہیں رہنا چاہیے اور نہ یہ توقع رکھنی چاہیے کہ لوگ ان کے پاس آئیں۔بلکہ تعلیم کے لئے انہیں خود باہر نکلنا اور اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور العمل تھا۔کسی کے پاس جا کر اسے تعلیم دینا ذلت نہیں۔بَاب ٢٤ : مَنْ أَجَابَ الْفُتْيَا بِإِشَارَةِ الْيَدِ وَالرَّأْسِ جو شخص فتوی کا جواب ہاتھ اور سر کے اشارے سے دے ٨٤: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۸۴ ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا۔کہا: قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَہیب نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ایوب عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّ النَّبِيَّ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عکرمہ سے۔عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ نبی ﷺ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي حَجَّتِهِ جبکہ آپ حج میں تھے کسی نے پوچھا: میں نے کنکریاں فَقَالَ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ فَأَوْمَا بِيَدِهِ پھینکنے سے پہلے ذبح کر لیا ہے تو آپ نے ہاتھ سے قَالَ وَلَا حَرَجَ قَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ اشارہ کیا۔فرمایا: کوئی حرج نہیں۔اور ایک نے کہا: أَذْبَحَ فَأَوْمَا بِيَدِهِ وَلَا حَرَجَ۔میں نے ذبح کرنے سے پہلے سرمنڈ والیا ہے تو آپ نے ہاتھ کے اشارہ سے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔اطرافه ،۱۷۲۱ ، ۱۷۲۲ ، ١٧۲۳، ١٧٣٤، ٦٦٦٦ - ٨٥: حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۸۵: ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا۔کہا: حنظلہ قَالَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ بن ابی سفیان نے سالم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ سَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ سے سنا۔وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے کہ آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُقْبَضُ نے فرمایا: علم اُٹھا لیا جائے گا اور جہالت اور فتنے الْعِلْمُ وَيَظْهَرُ الْجَهْلُ وَالْفِتَنُ وَيَكْثُرُ نمایاں ہو جائیں گے اور ھر ج“ بہت ہوگی۔آپ الْهَرْجُ قِيْلَ يَا رَسُوْلَ اللهِ وَمَا الْهَرْجُ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ یہ ھوج“ کیا ہے؟ آپ