صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 157 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 157

صحيح البخاری جلد ) ۱۵۷ ٣- كتاب العلم سے جن سے کہ اس رویا کی تصدیق ہوئی یہ استدلال کرنا مقصود ہے کہ دنیوی فتوحات اور عظمت جو مسلمانوں کو حضرت عمر کے ذریعہ سے نصیب ہوئی وہ علم نبوی کا ایک بچا ہوا ۔ کا ایک بچا ہو حصہ تھا جوحضر عمر کوآ ضرت عمرؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تھا۔ قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بوجہ آپ کی اس جامع حیثیت کے مجمع البحرين ( دنیوی اور اخروی بہبودی کے علوم کا جامع ) کہا گیا ہے۔ جیسا کہ آگے چل کر انشاء اللہ مفصل اس کی تشریح ہوگی۔ امام بخاری نے سیاست کو العلم میں شمار کر کے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل راستی لائے جو انسان کے حسنات الدارین پر حاوی ہے جیسا کہ مسیح نے آپ کے متعلق پیشگوئی کی تھی کہ ” جب وہ روح حق آئے گی تو کامل سچائی لائے گی۔“ يوحنا باب ۱۶، آیت ۱۲-۱۳) حضرت عمرؓ کے واقعات کا مطالعہ کرنے سے اس بچے ہوئے دودھ کی حقیقت کا پتہ چل سکتا ہے جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے پیا۔ بَاب ۲۳ : الْفُتْيَا وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الدَّابَّةِ وَغَيْرِهَا ایسی حالت میں فتوی دینا کہ فتوی دینے والا دینے والا ) چوپائے وغیرہ پر سوار ہو : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي ۸۳ : ہم سے اسماعیل نے بیان کیا۔ کہا: مالک نے مجھے مَالِكَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عِيْسَى بْنِ جلایا ۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عیسی بن طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طلحہ بن عبید اللہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى العاص سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع میں منی (مقام) میں لوگوں کے لئے ٹھہرے تا کہ وہ آپ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ فِي حَجَّةِ ( جو پوچھنا ہو ) پوچھ لیں۔ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور الْوَدَاعِ بِمِنَّى لِلنَّاسِ يَسْأَلُوْنَهُ فَجَاءَهُ اس نے کہا: مجھے علم نہ تھا اور ذبح کرنے سے پہلے میں نے رَجُلٌ فَقَالَ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ سرمنڈوا لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اب ذبح کرلے اور اس أَذْبَحَ قَالَ اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ فَجَاءَ آخَرُ میں کوئی حرج نہیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص آپ کے فَقَالَ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے علم نہ تھا؟ میں نے کنکریاں پھینکنے قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ سے پہلے ذبح کر لیا ہے۔ ، ذبح کر لیا ہے۔ فرمایا: اب کنکریاں پھینک لے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قَدِمَ اس میں کوئی حرج نہیں۔ حرج نہیں۔ ایسا ہی نبی ﷺ سے کوئی بھی ایسی بات نہیں پوچھی گئی جو آگے پیچھے کی گئی تھی ۔ مگر آپ نے صلى الله وَلَا أُخِرَ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ۔ فرمایا: اب کر لو اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ اطرافه: ۱۲٤ ، ۱۷۳۶ ، 1۷۳۷، 1738، 6665۔