صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 147 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 147

صحيح البخاري - جلد ا ۱۴۷ ٣- كتاب العلم وَكَانَ يَتَّبِعُ أَثَرَ الْحُوْتِ فِي الْبَحْرِ بطور نشان مقرر کر دی اور ان سے کہا گیا کہ جب تم فَقَالَ لِمُوْسَى فَتَاهُ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى پچھلی کھو بیٹھو تو واپس لوٹ آؤ۔پھر تم جلدی ہی اس الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيْتُ الْحُوْتَ وَمَا سے مل جاؤ گے اور حضرت موٹی مچھلی کے اس نشان کے پیچھے پیچھے جو سمندر میں تھا؛ جاتے تھے۔حضرت أَنْسَانِيْهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ مولی کو ان کے نوجوان نے کہا: دیکھا آپ نے؟ الْكَهْف: ٦٤) قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي ہم نے جب اس چٹان کے پاس آرام کیا تو میں مچھلی فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا (الکھف: ٦٥) کو بھول گیا اور مجھے شیطان نے ہی بھلا دیا۔حضرت فَوَجَدَا خَضِرًا فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا موسی نے کہا: یہی تو وہ ہے جو ہم تلاش کر رہے تھے۔اس پر وہ دونوں اپنے قدموں کے کھوج ڈھونڈتے الَّذِي قَصَّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ۔واپس لوٹے اور خضر کو پا لیا۔پھر ان کا وہی حال ہوا، جو اللہ عز وجل نے اپنی کتاب میں بیان کیا۔اطرافه ۷۸ ،١٢٢، ٢٢٦٧ ، ،۲۷۲۸، ۳۲۷۸،۰، ۳۴۰۰، ٣٤۰۱، ٤٧٢٥، ٤٧٢٦، تشریح ٧٤٧٨٦٦۷۲ ۱۷۲۷ ذَهَابُ مُوسَى فِى الْبَحْرِ : امام بخاری جس غرض کے لئے اس باب میں حضرت ابن عباس کا یہ اثر ( روایت ) لائے ہیں، وہ ذَهَابُ مُوسَى فِى الْبَحْرِ إِلَى الْخَضِرِ کے بعد آیت هَلْ اتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلّمْنِ لا کر ظاہر کر دی ہے۔یعنی علم ایک بے پایاں سمندر ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے نبی بھی استقلال سے کام نہ لے سکے اور وہ متحیر رہ گئے اور یہ کہ علم در حقیقت اس حکمت یعنی حقائق الاشیاء کا نام ہے جس کا ایک نمونہ حضرت موسی اور خضر کے واقعہ میں ہے۔امام ابن حجر نے باب کا یہ تعلق بیان کیا ہے کہ علم کی خاطر سفر وغیرہ کی مشقت اُٹھانی چاہیے اور پھر یہ اعتراض پیدا کیا ہے کہ حضرت موسی نے علم کی خاطر سمندر میں سفر نہیں کیا تھا بلکہ خشکی میں جہاں چنان تھی۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۲) خشکی یاتری کی بحث میں پڑنے کی ہمیں ضرورت نہیں۔کیونکہ اس باب سے امام بخاری کا یہ مقصود نہیں کہ سفر خشکی میں تھا یا کری میں اور نہ یہ مقصود ہے کہ تحصیل علم کے لئے سفر کیا جائے۔ایسے سفر کے متعلق جو تحصیل علم کے لئے کیا جائے ، انہوں نے الگ باب باندھا ہے۔(کتاب العلم، باب ۱۹:الخروج في طلب العلم) امام موصوف ابھی اس دستور العمل کی طرف اشارہ کر چکے ہیں جس پر ان کے استدلالات کا دارو مدار ہے اور وہ یہ کہ مومن کا کوئی فعل بھی عبث نہیں۔یہاں باب کے عنوان میں ذَهَابُ مُوسَى فِي الْبَحْرِ اور آیت هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أنْ تُعَلِمَنِ مِمَّا عَلِمْتَ رُشْدًا کہہ کر ذہن کو اس امر کی طرف منتقل ہونے سے بچانا چاہتے ہیں ؛ جس طرف امام ابن حجر گئے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو خشکی میں بھی سفر کیا اور سمندر میں بھی۔مگر امام بخاری نے جو سمندر کی تخصیص کی