صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 118
صحيح البخاری جلد ا ۱۱۸ ٣- كتاب العلم تشريح : أَتَمَّ الْحَدِيثِ ثُمَّ أَجَابَ السَّائِل : اس باب میں آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کے پاک نمونہ کو پیش کر کے چار کے چار اور آداب سکھائے ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کو جو بات سمجھ نہ آئے وہ پوچھے۔ دوسرا یہ کہ وہ قطع کلام نہ کرے۔ یہ عیب بکثرت پایا جاتا ہے۔ تیسرے یہ کہ عالم اپنا علمی وقار قائم رکھے۔ کسی کی غلطی اگر بڑی معلوم ہو تو حتی الوسع اس کا اظہار نہ کرے اور خوبی سے اس غلطی کا ازالہ کر دے۔ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ناپسندیدگی کو صرف اپنے اندرونی احساس تک ہی محدود رکھا۔ چنانچہ صحابہ کو شک رہا کہ آپ نے برا مانا ہے یا سنا نہیں۔ قرآن مجید میں بھی آپ کے اس پاک خُلق کا ذکر کیا گیا ہے۔ عَبَسَ وَ تَوَلَّى (عبس : (۲) ایک اندھے کے سامنے تیوری چڑھا کر اعراض کرنے پر اکتفا کرنا اور اسے قطع کلام پر کچھ نہ کہنا یہ اخلاق فاضلہ کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ کیونکہ اند یہ اندھا تو زبان ہی سے سمجھ سکتا ہے نا سے سمجھ سکتا ہے نہ کہ تیوری چڑھانے سے یا اعراض سے علمی مجلس میں علمی باتیں کرتے ہوئے ایک عالم کے لئے کامل طور پر ضبط نفس رکھنا از بس ضروری ہے۔ چوتھا ادب یہ ہے کہ سائل کے سوال کو بالکل نظر انداز بھی نہ کرے بلکہ بات ختم کرنے کے بعد اس کی تشفی کرائے۔ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ: السَّاعة کی تشریح حدیث نمبر ۵۰ میں ملاحظہ ہو۔ بَاب ۳ : مَنْ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْعِلْمِ جو بلند آواز سے (کسی بات کا ) علم دے رة ٦٠ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمُ بْنُ ٦٠ : ہم سے ابونعمان عارم بن فضل نے بیان کیا، کہا: الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ ابوعوانہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو بشر سے، أَبِي بِشْرٍ عَنْ يُوْسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ ابو بشر نے یوسف بن ماہک سے، یوسف نے حضرت عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ تَخَلَّفَ عَنَّا عبد الله بن عمرو بن عمرو سے روایت لی ۔ ا ایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ علی ایک سفر میں جو ہم نے کیا تھا؛ ہم سے پیچھے رہ سَافَرْنَاهَا فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا گئے۔ پھر آپ ہم سے آملے اور ہمیں نماز میں اتنی دیر ہو گئی ( کہ دوسری نماز کا وقت بھی آن پہنچا ) اور ہم الصَّلَاةُ وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ وَيْلٌ صلى الله ابھی وضو ہی کر رہے تھے۔ ہم نے اپنے پاؤں کو یونہی پانی سے پونچھنا شروع کر دیا۔ اس پر آپ نے بلند لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ۔ آواز سے فرمایا: ہائے شامت ان ایڑیوں کی آگ اطرافه: ٩٦ ، ١٦٣ ۔ سے۔ یہ دو دفعہ یا تین دفعہ فرمایا۔