صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 113
صحيح البخاري - جلد ا ۱۱۳ ٢ - كتاب الإيمان يَأْتِيْكُمُ الْآنَ ثُمَّ قَالَ اسْتَعْفُوْا * (وفات شده) امیر کے لئے دعائے مغفرت کرو۔ صل الله ۔ لِأَمِيرِكُمْ فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَفْوَ ثُمَّ کیونکہ وہ عفو کو پسند کرتا تھا۔ پھر انہوں نے کہا: اس کے قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی بعد سنو کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا ۔ آیا۔ میں نے کہا کہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَبَايِعُكَ عَلَى میں آپ سے اسلام میں داخل ہونے کی بیعت کرتا ہوں تو آپ نے مجھ پر ہر ایک مسلمان کی خیر خواہی بھی لازم کی الْإِسْلَامِ فَشَرَطَ عَلَيَّ وَالنَّصْحِ لِكُلِّ تھی۔ اس پر میں نے آپ کی بیعت کی اور میں اس م مسجد مُسْلِمٍ فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا وَرَبِّ هَذَا کے رب کی قسم کھاتا ہوں کہ میں تمہارا سراسر خیر خواہ الْمَسْجِدِ إِنِّي لَنَاصِحٌ لَّكُمْ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ ہوں ۔ پھر انہوں نے مغفرت کی دعا کی اور (منبر سے ) وَنَزَلَ۔ اتر آئے۔ مذکورہ تشريح : الدِّينُ النَّصِيحَةُ: عنوان باب کے دورہ بالالفاظ الدِّينَ النَّصِيحَةُ الخ ۔ حدیث نبوی کے ہیں۔ مسلم نے بھی اس کو نقل کیا ہے۔ ہے۔ (مسلم۔ كتاب الايمان باب بيان أن الدين النصيحة ) لوجه اس کے کہ یہ حدیث امام بخاری کی شرط کے مطابق نہ تھی ، اس لئے اسے باب کے عنوان ہی میں رکھا ہے اور اس کے ہم معنی دوسری حدیثیں لے آئے ہیں۔ نصح کے لغوی معنی خالص ہونا یا کرنا۔ نصیحت عربی زبان میں ایک جامع کلمہ ہے۔ اس کے معنی نہ صرف یہ ہیں کہ اپنی نیت اور اپنے عمل کو ہر قسم کے اغراض نفسانی کی آمیزش سے بالکل پاک وصاف رکھنا بلکہ کامل ہمدردی و خیر خواہی کرنا۔ ابو ثمامہ نے النَّصِيحَةُ لِلَّهِ کی یہ تشریح کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حق کو حقوق العباد پر مقدم رکھنا اور ایمان باللہ اور اس کی محبت و عبادت میں کسی قسم کا خلل نہ آنے دینا۔ النَّصِيحَةُ لِلرَّسُولِ یہ ہے کہ اس کی کامل اتباع کرنا اور ہر حال میں اس کی مدد کرنا ، اس کا پیغام دنیا کو پہنچانا اور اس کی محبت و عزت دل نشین کرنا۔ النَّصِيحَةُ لَائِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ یہ ہے کہ جو اموران کے سپرد ہیں ان میں ان کی مدد کرنا ، ان کی کسی غفلت اور لغزش پر ادب کے ساتھ اُن کو آگاہ کر کے خاموش ہو جانا اور ان کے ساتھ کسی قسم کا منافقانہ رویہ نہ رکھنا بلکہ لوگوں میں ان کی نسبت فرماں برداری کی روح پیدا کرنا۔ اَلنَّصِيحَةُ لِلْمُسْلِمِینَ یہ ہے کہ ان کی بہبودی و اصلاح کے لئے ہر وقت کوشاں رہنا۔ ان کو ہر قسم کے فتنہ وشر سے بچانا۔ ان کی خوشی و نمی کو اپنی خوشی نی و نمی وہی سمجھنا سمجھنا اور او ان کے لئے وہی پسند کرنا جو اپنے لئے پسند ہو۔ (فتح) ) فتح الباری جزء اول صفحه ۱۸۲) ان تمام تشریحوں سے وہ تشریح نصیحت کا مفہوم پورے طور پر ادا کرتی ہے، جس کی طرف آیت مذکورہ کا حوالہ دے کر امام بخاری نے اشارہ کیا ہے۔ ساری آیت یوں ہے : لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَى وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔ وَلَا عَلَى بعض روایات میں اسْتَعْفُوا کی بجائے اسْتَغْفِرُوا کا لفظ ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۸۴)