صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 112
صحيح البخاري - جلد ا ۱۱۲ ٢ - كتاب الإيمان باب ٤٢ قَوْلُ النَّبِيِّ مِ الدِّينُ النَّصِيْحَةُ لِلَّهِ وَلِرَسُوْلِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ نبی ﷺ کا یہ فرمانا کہ دین اخلاص ہے اللہ کے لیے اور اُس کے رسول کے لئے اور مسلمانوں کے پیشواؤں کے لئے اور ان کے عام افراد کے لئے وَقَوْلُهُ تَعَالَى إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُوْلِهِ۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول : (إِذَا نَصَحُوُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ) (التوبة: ۹۱) یعنی جب وہ اللہ اور اس کے رسول کے لئے مخلص ہوں۔ ٥٧ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۵۷ : ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: یکی نے يَحْيِي عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسُ اسماعیل سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ انہوں نے کہا: مجھے قیس بن ابی حازم نے جریر بن قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عبدالله (بجلی) سے روایت کرتے ہو۔ تے ہوئے بتلا بتلایا انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنَّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ۔ نماز سنوار کر پڑھنے اور زکوۃ دینے اور ہر ایک مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر کی۔ اطرافه: ٥٢٤ ، ۱٤٠١ ، ۲۱۵۷ ، ٢٧١٤ ، ٢٧١٥ ، ٧٢٠٤۔ ٥٨ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ ۵۸ : ہم سے ابو نعمان نے بیان کیا، کہا: ابو عوانہ نے زیاد حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ بن علاقہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ہم نے حضرت جریر بن عبداللہ کو کہتے سنا کہ جس قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُوْلُ دن حضرت مغیرہ بن شعبه فوت ہوئے تو حضرت جریر منبر يَوْمَ مَاتَ الْمُغِيْرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَامَ فَحَمِدَ پر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد وستائش بیان کی اور کہا: اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ تمہیں چاہیے کہ تم صرف ایک اللہ ہی کو اپنا سپر بناؤ، جس کا کوئی بھی ہم سر نہیں اور متانت اور سکینت اختیار کرو۔ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَالْوَقَارِ یہاں تک کہ تمہارے پاس کوئی حاکم آجائے۔ کیونکہ وہ وَالسَّكِينَةِ حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيْرٌ فَإِنَّمَا تو تمہارے پاس اب آہی رہا ہوگا۔ پھر کہا: اپنے