صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 109
جلدا 1+9 ٢ - كتاب الإيمان الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمُعَنِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - (الانقال :۴۲) ترجمہ: اور تم جان لو کہ جو بھی مال غنیمت تمہارے ہاتھ لگے تو اس کا پانچواں حصہ اللہ ( یعنی دین کے کاموں کے لیے ) اور رسول کے لیے اور اقرباء کے لیے اور بتائی اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے، اگر تم اللہ پر ایمان لاتے ہو اور اس پر جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلہ کر دینے کے دن اُتارا تھا، جس دن دو جمعیتوں کا تصادم ہوا تھا۔اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے، دائمی قدرت رکھتا ہے۔اس آیت کے پہلے بھی اور بعد بھی اسی نصرت عملی اور فتح اور ممتاز حیثیت کا ذکر ہے جو ایمان کی وجہ سے ایک مسلمان جماعت کو اس کے دشمن کے بالمقابل حاصل ہوتی ہے۔( مزید تشریح کے لئے دیکھئے کتاب العلم باب ۲۵ روایت نمبر ۸۷) بَاب ١ ٤ : مَا جَاءَ أَنَّ الْأَعْمَالَ بِالنِّيَّةِ وَالْحِسْبَةِ یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ اعمال نیت پر اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ساتھ ہوتے ہیں وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَّا نَوَى فَدَخَلَ فِيْهِ اور یہ کہ آدمی کو وہی ملتا ہے جو اُس نے نیت کی ہوتی الْإِيْمَانُ وَالْوُضُوْءُ وَالصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ ہے۔اس میں ایمان اور وضو اور نماز اور زکوۃ اور حج اور وَالْحَجُّ وَالصَّوْمُ وَالْأَحْكَامُ وَقَالَ اللهُ روزہ اور باقی احکام بھی شامل ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے تَعَالَى قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فرمایا ہے: قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ یعنی کہو کہ ہر (بني إسرائيل: ٨٥ عَلَى نِيَّتِهِ نَفَقَةُ ایک اپنے اپنے طریقے یعنی نیت کے مطابق عمل کر رہا الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا صَدَقَةٌ ہے۔آدمی کا اپنے کنبے پر رضاء الہی کے لئے خرچ کرنا وَقَالَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ۔بھی صدقہ ہے اور آپ نے فرمایا: ہاں جہاد اور نیت۔٥٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ :۵۴ ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مالک نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے تجي بن سعید سے، مُّحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ كي نے محمد بن ابراہیم سے، محمد نے علقمہ بن وَقَاصٍ عَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى وقاص سے، انہوں نے حضرت عمر سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اعمال تو نیت پر موقوف اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ ہیں اور ہر ایک شخص کو وہی ملتا ہے جو اس نے نیت کی وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَّا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ ہو۔پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى لئے ہو۔اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے