صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 105 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 105

صحيح البخاري - جلد ا ۱۰۵ ٢ - كتاب الإيمان ایک خاص حالت کا مشاہدہ ہے۔ مگر اپنے باطنی احساس کو خارجی ثبوت کے ساتھ پایہ یقین تک پہنچانے کے لئے اور لوگوں کے عرفان میں مزید ترقی دینے کے لئے فرمایا: رُدُّوہ اسے واپس لاؤ مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ باب ۳۸ ٥١ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ قَالَ ۵۱ ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابراهيم بن سعد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے صالح ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ہے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ قَالَ ابن عباس نے ان سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے کہ أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ أَنَّ هِرَقْلَ قَالَ لَهُ ابوسفیان ( بن حرب ) نے مجھے بتلایا کہ ہر قل نے ان سَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ سے کہا کہ میں نے تم سے پوچھا تھا : کیا وہ بڑھ رہے فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُوْنَ وَكَذَلِكَ ہیں یا گھٹ رہے ہیں۔ تو تم نے کہا وہ بڑھ رہے ہیں اور ایمان اسی طرح بڑھتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ الْإِيْمَانُ حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيْهِ کہ کیا کوئی اس کے دین میں داخل ہو کر پھر اس دین کو فَزَعَمْتَ أَنْ لَّا وَكَذَلِكَ الْإِيْمَانُ حِيْنَ نا پسند کرنے کی وجہ سے مرتد ہو جاتا ہے؟ تو تم نے کہا: تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوْبَ لَا يَسْخَطُهُ نہیں اور ایمان بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ جب اس کی أَحَدٌ۔ بشاشت دل میں رچ جاتی ہے تو اسے کوئی بھی ناپسند نہیں کرتا ۔ اطرافه: ٧، ٢٦٨١، ۲۸۰٤، ۲۹۴۱، ۲۹۷۸، ۳۱۷، ٤٥٥٣، ٥٩٨٠، ٦٢٦٠، ٧١٩٦، ٧٥٤١۔ تشریح امام بخاری بھی باب کا عنون علیہ اس لئے بھی قائم نہں کرتے کہ اس باب کا تعلق پہلے باب سے ہوتا ہے اور ان کو تائیدی رنگ میں ضمناً ایک ایسی بات بیان کرنی مقصود ہوتی ہے جو سابقہ احا ، جو سابقہ احادیث کے مفہوم کی واضح طور پر تعیین کرتی ہے۔ وَكَذَلِكَ الْإِيْمَانُ حِينَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ : امام ابن حجر رحمہ اللہ علیہ کا خیال ہے کہ ہر قل چونکہ عقلمند، عالم تورات و انجیل تھا، اس لئے ایمان کے گھٹنے اور بڑھنے کے متعلق اس کا قول بھی بطور ایک تائیدی شہادت کے پیش کیا گیا ہے۔ مگر یہ نہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ چونکہ ہر قل کا یہ قیاس کہ ایمان جب کسی قوم میں صحیح طور پر پیدا ہوتا ہے تو اس