صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 102 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 102

صحيح البخاري - جلد ا ۱۰۲ ٢ - كتاب الإيمان رَمَضَانَ قَالَ مَا الْإِحْسَانُ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ رمضان کے روزے رکھے۔ اس ۔ ۔ اس نے پوچھا: احسان کیا اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ ہے؟ آپ نے فرمایا: تو اللہ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا تو اُسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اُسے نہیں دیکھتا تو پھر يَرَاكَ قَالَ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ مَا وہ تجھے یقیناً دیکھ ہی رہا ہے۔ اس نے پوچھا : وہ گھڑی الْمَسْئُوْلُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ کب ہوگی؟ آپ ؟ آپ نے فرمایا: جس شخص سے اس کے وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتِ متعلق پوچھا جا رہا ہے، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں الْأَمَةُ رَبَّهَا وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الْإِبِلِ جانتا اور میں تجھے اس کے نشانات کا پتہ دے دیتا ہوں۔ الْبُهم فِي الْبُنْيَانِ فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ جب لونڈی اپنے آقا و بنے گی اور جب سیاہ اونٹوں کے چرواہے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اونچی عمارتیں إِلَّا اللهُ ثُمَّ تَلَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جائیں گے۔ وہ گھڑی بھی انہی پانچ باتوں میں سے ہے وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ الْآيَةَ جنہیں سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ پھر نبی سے (لقمان: ٣٥) ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَالَ رُدُّوهُ فَلَمْ نے یہ آیت آخر تک پڑھی: ( إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ يَرَوْا شَيْئًا فَقَالَ هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ يُعَلِّمُ السَّاعَةِ یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے ۔۔۔۔ اس کے بعد وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ آپ نے فرمایا: النَّاسَ دِيْنَهُمْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ جَعَلَ اسے واپس لے آؤ۔ تو انہوں نے کچھ انہوں نے کچھ بھی نہ دیکھا۔ تب ذَلِكَ كُلَّهُ مِنَ الْإِيْمَانِ۔ طرفه ٤٧٧٧۔ صلى الله آپ نے فرمایا: یہ جبرائیل تھے۔ لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔ ابو عبد اللہ بخاری نے کہا: آپ نے ان تمام باتوں کو ایمان قرار دیا۔ روا تشريح : سُؤالُ جِبْرِيلَ النَّبِيَّ عَنِ الإِيمَانِ : اس سے پہلے ان کیا جاچکا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے آیات و احادیث سے استدلال کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ ایمان کا تعلق عقائد کے ساتھ ، اسلام کا اعمال کے ساتھ ہے اور دین کا مفہوم ان دونوں کے مجموعہ پر حاوی ہے اور نیز یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ ایمان و اسلام کا تعلق آپس میں لازم ملزوم کی طرح ہے اور دین کے یہ دو عنصر پہلو بہ پہلو جا کر کھڑے ہیں۔ ایک کو جدا کر دینے سے دین کا مفہوم غائب ہو جاتا ہے۔ اب یہ ساری بحث اس باب میں یکجا کی گئی ہے۔ جبرائیل کے سوال مَا الْإِحْسَانُ کا جواب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے اس سے یہ مراد ہے کہ دین کی خوبی یہ ہے کہ ایمان بھی اعلیٰ درجہ کا ہو۔ یعنی ایسا کہ عابد اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہو اور اسی ایمانی روح کے ساتھ عبادت بجالا